کراچی میں زہر خورانی سے 6 افراد کی ہلاکت معمہ بن گئی، تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

کوئٹہ + کراچی (نیوز ڈیسک) کراچی میں مبینہ مضر صحت کھانے سے پانچ بچوں سمیت چھ افراد کی ہلاکت معمہ بن گئی، ابتدائی رپورٹ میں موت کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی، پولیس چیف نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی، بچوں کو بلوچستان کے علاقے خانوزئی میں سسکیوں اور آہوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

پانچ بچوں اور ان کی پھوپھی نے کیا کھایا، ہلاکت کی وجہ ابھی تک معلوم نہ ہوسکی۔ اسپتال حکام نے ابتدائی میڈیکل رپورٹ پولیس کو دے دی۔ بچوں کے خون، معدے، دیگر سیمپل کیمیکل تجزیے کیلئے لیے لیب بھیجےتھے، جسم پر کوئی ظاہری نشانات نہیں تھے۔

ڈاکٹرز کا کہنا تھا،کیمیکل رپورٹ کے بعد ہی بچوں کی اموات کی وجہ معلوم ہوسکے گی، والد کا کہنا ہے کہ بچوں کی والدہ نے بتایا کہ کمرے میں بستر کے نیچے کچھ گولیاں موجود تھی، پولیس معاملے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات بھی کر رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اہلخانہ نے بچوں کو فنگر چپس اور جوس دلوایا تھا، چپس خراب ہونے پر آدھے کھا کر پھینک دیئے تھے جبکہ نوبہار اور بریانی سینٹر سے 400 سے زائد افراد نے کھانا کھایا، کوئی اور متاثرہ شخص تاحال سامنے نہیں آیا۔

دوسری طرف کراچی پولیس چیف نے 6 افراد کی ہلاکت کے معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی۔ ڈی آئی جی ساؤتھ شرجیل کھرل 3 رکنی ٹیم کی سربراہی کریں گے۔

بلوچستان کے علاقے خانوزئی میں جاں بحق بچوں کی نماز جنازہ اد ا کردی گئی، جس کے بعد انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں