کورونا وائرس: بھارت میں اموات 2 لاکھ سے تجاوز کر گئیں

نئی دہلی (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) اس وقت دنیا بھر میں کووڈ 19 کے کیسز میں سے تقریباً چالیس فیصد لوگ بھارت میں ہیں۔ ایک ماہ قبل تک یہ شرح صرف نو فیصد تھی۔

بھارت میں کورونا وائرس کے نئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً تین ہزار تین سو افراد ہلاک ہوئے ہیں اور اس طرح بھارت میں پہلی بار کووڈ 19 سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

ایک ایسے وقت جب ملک کو آکسیجن کی شدید قلت کا سامنا ہے اور اسپتالوں میں جگہ نہیں ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین لاکھ ساٹھ ہزار سے بھی زیادہ نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس طرح بھارت میں مجموعی طور پر متاثرین کی تعداد ایک کروڑ 79 لاکھ سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

یہ اعداد و شمار حکومت کے جاری کردہ ہیں جبکہ بعض آزاد ذرائع کے مطابق اصل انفیکشن اور ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ ایک تو ملک میں ٹیسٹ کی سہولیات کم ہیں دوسرے اسپتالوں میں جگہ نہیں ہے اس لیے بہت سے لوگوں کا گھروں میں ہی انتقال ہو رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق بیشتر اسپتال ایسے مریضوں کی موت کے سرٹیفکٹ پر کورونا لکھنے سے بھی گریز کرتے ہیں، جس سے اصل تعداد کا معلوم ہونا بڑا مشکل ہے۔ پرائیوٹ ہسپتالوں میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کا بھی کوئی درست ریکارڈ نہیں رکھا جا رہا ہے۔

وجوہات کیا ہیں؟

بھارت میں اسپتالوں کی ایک انجمن اجالا سائیگنوس کے ڈائریکٹر شوچین بجاج نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں بتایا کہ بھارت میں صورت حال، “آپ کے تصور سے بھی کہیں زیادہ خراب ہے۔”

ان کا کہنا تھا، “مجھے ہر روز اسپتال میں بیڈ حاصل کرنے، آکسیجن فراہم کرنے اور دیگر طبی امداد کے لیے پانچ سو سے بھی زیادہ فون کال آتی ہیں۔” اس بحران میں اضافے کی وجہ سے بھارت کو آکسیجن اور اہم طبی رسد کی وسیع پیمانے پر قلت کا سامنا ہے۔

ڈاکٹر بجاج کے مطابق بھارت میں اتنے بڑے پیمانے پر انفیکشن اور اتنی تیزی سے کیسز کے بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں۔”میرے خیال سے ایک تو آبادی کا حجم بہت زیادہ ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہاں گنجان آبادی والے بڑے بڑے شہر ہیں۔ اور یہ وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔”

وہ کہتے ہیں، “اب ہم ڈبل میوٹنٹ تو کیا بلکہ ٹرپل میوٹنٹ وائرس بھی دیکھ رہے ہیں۔ برطانوی قسم کا وائرس ملک کے شمالی علاقوں میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکا ہے۔ میرے خیال سے یہ تمام عوامل ہیں جس سے صورتحال بگڑ رہی ہے۔”

بھارت میں انفیکشن کی شرح سب سے زیادہ
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق دنیا بھر کے کووڈ 19 سے متاثرہ افراد میں سے 38 فیصد کیسز اس وقت بھارت میں ہیں۔ عالمی سطح پر دیگر ممالک کے مقابلے میں یہ شرح کہیں زیادہ ہے۔

اس رپورٹ کے دوسرے روز ہی بھارت میں مزید تقریباً پونے چار لاکھ انفیکشن کے کیسز سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے اس شرح میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ ایک ماہ قبل تک عالمی سطح پر بھارت میں یہ شرح صرف نو فیصد تھی۔

تقریباً ایک ارب چالیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں اب تک صرف دس فیصد افراد کو بمشکل ویکسن لگائی جا سکی ہے۔ یہ رفتار اتنی سست ہے کہ اس عمل کو مستقبل قریب میں مکمل کرنا ممکن نہیں لگتا۔

ہسپتالوں میں آکسیجن اور انٹینسیو کیئر وارڈوں کی سخت قلت پیدا ہو گئی ہے۔ شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں میں لاشوں کے انبار لگتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو لاشوں کو سڑکوں کے کنارے آخری رسومات اور کھیتوں میں تدفین کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے گزشتہ برس سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور صحت کے نظام میں کوئی بہتری کرنے کی کوشش نہیں کی اسی لیے آکسیجن اور ادویات کی کمی کی وجہ سے لوگ اتنی بڑی تعداد میں ہلاک ہو رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں