غزہ پر اسرائیلی حملے ‘جنگی جرائم’ ہوسکتے ہیں، سربراہ یو این ایچ آر سی

نیو یارک (ویب ڈیسک) اقوامِ متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق (یو این ایچ آر سی) کی سربراہ نے کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے حالیہ فضائی حملے جنگی جرائم ہوسکتے ہیں کیوں کہ جن عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ان کے عسکری استعمال کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یو این ایچ آر سی کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشیل بیچلیٹ نے ‘اسرائیل اور فلسطینوں کے مابین تشدد’ میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘اسرائیل نے بہت سی احتیاطی تدابیر اپنائیں مثلاً کچھ حملوں میں پیشگی اطلاع دینا لیکن اس قدر گنجان آباد علاقے میں ہونے والے فضائی حملوں کا حملوں کا نتیجہ بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے اور غزہ میں وسیع پیمانے پر سویلین ڈھانچے کی تباہی کی صورت میں نکلا’۔

سربراہ یو این ایچ سی آر کا کہنا تھا کہ اگر شہریوں اور سویلین چیزوں پر ان حملوں کے بلاامتیاز اور غیر موزوں اثرات پائے گئے تو اس طرح کے حملے جنگی جرائم میں شمار ہوسکتے ہیں’۔

خیال رہے کہ جمعے کے روز ہونے والی جنگ بندی سے قبل اسرائیل کی جانب سے غزہ میں کیے گئے فضائی حملوں کے نتیجے میں 66 بچوں سمیت 253 فلسطینی جاں بحق ہوچکے تھے جبکہ اس 11 روزہ پر تشدد کارروائیوں کے نتیجے میں 19 سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب غزہ سے فائر ہونے والے راکٹس نے اسرائیل میں ایک بچے سمیت 12 افراد کی جان لی اور 357 افراد زخمی ہوئے۔

مشیل میچلیٹ نے ‘حماس اور تمام عسکری گروہوں سے راکٹس اور گولہ باری کے اندھا دھند استعمال سے باز رہنے کا مطالبہ کیا’۔

اقوامِ متحدہ کی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے لیکن فلسطینیوں کو بھی بالکل وہی حق حاصل ہے’۔

انہوں نے غزہ میں ہونے والی تباہی کے حجم پر بھی روشنی ڈالی۔

ان کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر عسکری گروہ اور ان کے عسکری ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے اسرائیلی حملے غزہ میں شہریوں کی بڑی تعداد میں اموات اور زخمی ہونے کے علاوہ سویلین چیزوں کو بڑے پیمانے پر پہنچنے والے نقصان کا سبب بنے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی حملوں میں سرکاری عمارات، رہائشی مکانات، بین الاقوامی انسانی ہمدری کی تنظیموں، طبی سہولیات اور میڈیا کے دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے اس دعوے کہ ان عمارتوں کو مسلح گروہ عسکری مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں، ہم نے اس کے کوئی ثبوت نہیں دیکھے۔

خیال رہے کہ 10 مئی سے 21 مئی تک غزہ کی پٹی میں جاری رہنے والے اسرائیلی حملوں کے باعث 200 سے زائد فلسطینی جاں بحق جبکہ ہزاروں بے گھر ہوئے اس کے علاوہ محصور پٹی میں اہم عمارتیں بھی ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔

سال 2008 سے اسرائیل کے ساتھ ہونے والی 3 جنگوں کے بعد یہ 20 لاکھ آبادی والے اس گنجان آباد علاقے میں ہوئی تازہ ترین بمباری تھی۔

11 روز جاری رہنے والے ان حملوں کے بعد فلسطینی حکام نے بتایا کہ بمباری میں 2 ہزار گھر تباہ ہوگئے جبکہ مجموعی طور پر نقصانات کا تخمینہ 15 کروڑ ڈالر سے زائد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں