154

‏ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ایم کیو ایم لندن کے 8 ملزمان گرفتار: ترجمان رینجرز کرنل فیصل

کراچی (ڈیلی اردو) پاکستان رینجرز سندھ نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث 8 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جن کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے۔

رینجرز ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کرنل فیصل اعوان نے کہا کہ دسمبر 2018 سے فروری 2019 کے دوران کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے کچھ ایسے واقعات ہوئے جن کا مقصد شہر کا امن،سیاسی ،معاشی اور ثقافتی منظر تباہ کرنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 9 دسمبر کو گلستان جوہر میں ایم کیو ایم پاکستان کی میلاد میں دھماکا ہوا، جس میں پارٹی قیادت محفوظ رہی، 23 دسمبر کو پی ایس پی کے ٹائون آفس پر فائرنگ ہوئی جس میں 2 عہدیدار قتل اور کارکن زخمی ہوا، 11 فروری کو ایم کیو ایم کے نیو کراچی آفس پر حملے میں کارکن قتل ہوا۔

پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ان واقعات کی ایف آئی آرز متعلقہ تھانوں میں درج ہے، اسی تناظر میں رینجرز سندھ نے خصوصی انٹیلی جنس ٹیمیں تشکیل دیںتاکہ ملوث ملزم تک پہنچا جاسکے۔

رینجرز سندھ نے خفیہ اداروں کی معلومات کی بنیاد پر ان دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث 8 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

گرفتار تمام ملزمان کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے جو سلیم بلجیم اصل نام محمد سلیم عرف کمانڈر ان چیف کی تیار کردہ ٹارگٹ کلنگ ٹیم کا حصہ ہیں،جو نارتھ کراچی کا رہائشی اور پولیس ہیڈ کوارٹر گارڈن سمیت درجنوں حملوں میں ملوث ہے۔

پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ سلیم بلجیم کو 2011ء میں رینجرز نے گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کیا تھا جو کیسز کی پیروی کے دوران بیرون ملک چلاگیا اور آج کل لندن، بلجیم اور ساوتھ افریقا میں لندن گروپ کے شرپسندوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔

ٹارگٹ کلنگ کے گرفتار شدہ ممبران میں رحمٰن عرف شاہ رخ عرف حاجی (شاہ فیصل کالونی)، سید رضا علی عرف سولجر (یوپی موڑ)، محسن علی عرف شاہ جی (سرجانی)، قاضی انیس الرحمٰن عرف قادری عرف کیپٹن (لیاری)، تنظیم عرف اسمارٹ بوائے (لیاقت آباد)، ضمیر الدین عرف شہزاد گولڈ، سید وقاص حیدر، شہریار عرف شیری ( سرجانی ) شامل ہیں۔

پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ملزمان نے اعتراف کیا کہ ہمیں سلیم بلجیم بانی ایم کیو ایم کی ہدایات پر لندن سے کنٹرول کر رہا ہے، ہماری ٹیم کا سرغنہ آصف پاشا عرف میجر ہے جو تاحال مفرور ہے،جو ماضی میں ایم کیو ایم ڈیفنس کلفٹن سیکٹر کا انچارج رہا ہے۔

انٹیلی جنس معلومات کے مطابق آصف پاشا عرف میجر نے نومبر 2018ء میں سلیم بلجیم سے دبئی میں ملاقات کی،دہشت گردی کی کارروائی کے دوران دونوں میں واٹس ایپ پر رابطے رہتا اور وقتاً فوقتاً انٹر نیٹ ڈیوائسز کے ذریعے میسجز اور احکامات وصول کرتےجو دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ سے متعلق ہوتے۔

ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ٹارگٹ کلنگ ٹیم کی سرپرستی بانی ایم کیو ایم کے احکامات پر کی جارہی تھی، دہشت گردی کے واقعات کی مالی معاونت کےلئے مختلف مواقع پر نامعلوم افراد اور خواتین کے ذریعے رقم پہنچائی گئی،وائس میسجز میں سنا جاسکتا ہے کہ ایم کیو ایم لندن اور سلیم بلجیم گرفتار ملزمان کی اونر شپ قبول کی۔

پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ملزمان کی گفتگو زیادہ تر کوڈ ورڈز میں ہوا کرتی تھی، جیسے آئی ای ڈی کیلئے ڈبہ،گرینیڈ کیلئے آلو اور پسٹل کےلئے کیسٹ کا کوڈ استعمال کیا جاتا تھا جنہیں وائس میسجز میں سنا جاسکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں