چین کا طالبان سے تمام دہشتگرد گروپس سے رابطے ختم کرنے کا مطالبہ

بیجنگ (ڈیلی اردو/وی او اے) چین کے وزیر خارجہ وینگ یئ نے بدھ کے روز چین کے شمالی شہر تیانجن میں طالبان کے معاون سیاسی سربراہ ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے طالبان پر زور دیا کہ وہ تمام دہشت گردوں کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کریں، جن میں چین مخالف ترکستان اسلامی تحریک (اِی ٹی آئی ایم) بھی شامل ہے۔

دونوں جانب کے عہدے داروں نے بتایا ہے کہ ملا برادر نے، جو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں گروپ کے دفتر کے سربراہ ہیں، نو ارکان پر مشتمل وفد کے ساتھ تیانجن میں چینی وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ملاقات سے عالمی سطح پر طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے لیے چین کے نرم گوشے کی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے الفاظ میں وینگ نے کہا ہے کہ طالبان افغانستان میں اہم فوجی اور سیاسی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں اور ملک کے امن، مفاہمت اور تعمیر نو کے عمل میں ان کا کردار اہمیت کا باعث ہو گا۔

یہ بات چیت ایسے میں ہوئی ہے جب افغانستان سے امریکہ اور نیٹو کی افواج کا انخلا تقریباً مکمل ہونے والا ہے۔ فوج کی واپسی کا یہ عمل فروری 2020ء میں طالبان کے ساتھ امریکہ کے تاریخ ساز سمجھوتے کی بنیاد پر عمل میں آیا۔

تاہم، امریکہ کی سرپرستی میں باغیوں اور افغان حکومت کے درمیان ہونے والی امن بات چیت کی سست روی کے باعث خاطر خواہ نتائج برآمد ہونے میں ناکامی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے یہ خدشات موجود ہیں کہ تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ملک میں بین الافغان تنازع بڑھ کر خانہ جنگی کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

وینگ کے بقول، افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا فوری انخلا دراصل افغانستان سے متعلق امریکی پالیسی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چین کے مطابق اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ سیکیورٹی کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی خلا باقی نہ رہے، ضروری ہے کہ غیر ملکی افواج کی واپسی، بقول ان کے، ذمہ دارانہ طریقے سے ہونی چاہئیں۔

ایک ایسے وقت میں، جب امریکی زیر قیادت غیر ملکی افواج نے ملک سے باضابطہ انخلا کا آغاز کیا ہے، طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے ہیں اور ملک کے ایک وسیع علاقے پر قبضہ جما لیا ہے۔ سیکیورٹی کی دگرگوں صورت حال کے نتیجے میں یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد گروہ اکٹھے ہو کر بین الاقوامی حملوں کی منصوبہ سازی کر سکتے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں طالبان نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ القاعدہ سمیت تمام دہشت گرد گروپوں کے ساتھ قطع تعلق کریں گے اور کسی طور پر امریکی قومی سیکیورٹی کے مفادات کے لیےخطرے کے باعث بننے والے دہشت گردوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ لیکن، ناقدین اور اقوام متحدہ کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ابھی تک دہشت گردوں کے ساتھ ان کے تعلقات منقطع نہیں ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں