ایران: ہم تمام مشکلات پر قابو پا لیں گے، ابراہیم رئیسی

تہران (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی/ڈوئچے ویلے) ایران کے قدامت پسند لیڈر ابراہیم رئیسی کی صدارت کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ رئیسی اقتصادی بحران اور اپنے ملک کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے سبب نہایت مشکل حالات میں ایران کے تیرہویں صدر کی حیثیت سے منتخب ہوئے ہیں۔

منگل تین اگست کو ایران کے سخت گیر موقف رکھنے والے سیاسی رہنما ابراہیم رئیسی کے صدارتی منصب کے آغاز کا سرکاری اعلان ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے حکم نامے کو پڑھ کر سناتے ہوئے کیا گیا۔ خامنہ ای کے چیف آف اسٹاف نے حکم نامہ پڑھ کر سنایا، جس میں خامنہ ای نے ابراہیم رئیسی پر عوامی اعتماد کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کیا،” عوام کے انتخاب کے مدنظر میں ایک زیرک، سمجھدار، بے حد محنتی اور تجربہ کار ابراہیم رئیسی کو اسلامی جمہوریہ ایران کی صدارتی ذمہ داری سونپ رہا ہوں۔‘‘

رئیسی اعتدال پسند صدر روحانی کی جگہ ایران کے نئے صدر منتخب ہوئے ہیں، جن کی کامیابیوں میں سب سے نمایاں کامیابی 2015ء کی ایرانی ایٹمی ڈیل کو سمجھا جاتا ہے، جو ایران اور چھ بڑی مغربی طاقتوں کے مابین طے پائی تھی۔

نئے صدر کو درپیش چیلنجز

ابراہیم رئیسی کو اپنے صدارتی دور کے آغاز سے ہی ایران کے جوہری معاہدے کی بحالی کے اہم ترین چیلنج کا سامنا ہو گا۔ اس ڈیل سے امریکا سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں یکطرفہ طور پر دست بردار ہو کر نکل چکا ہے، ساتھ ہی تہران پر واشنگٹن کی طرف سے وسیع تر پابندیاں بھی عائد کر دی گئیں۔ رئیسی نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا،” تہران حکومت امریکا کی جابرانہ پابندیوں کے خاتمے کی پوری کوشش کرے گی لیکن اپنی قوم کے معیار زندگی کو غیر ملکیوں کی خواہشات اور مرضی کے مرہون منت نہیں ہونے دے گی۔‘‘

ساٹھ سالہ ابراہیم رئیسی کو امریکا، برطانیہ اور اسرائیل کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایک ٹینکر پر ہونے والے حملے کے ضمن میں مسلسل دھمکیوں اور انتباہی بیانات کا سامنا ہے جبکہ تہران اس حملے کی ذمہ داری لینے سے انکار کر چُکا ہے۔

رئیسی کا انتخاب

ابراہیم رئیسی گزشتہ جون میں ایران میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے منتخب ہوئے تھے تاہم اس الیکشن میں ایران کے انتہائی طاقتور سیاسی رہنماؤں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا اور نتیجتاً ایران کے نصف رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔ رئیسی ایران کی عدلیہ کے سابق سربراہ بھی رہ چُکے ہیں اور انہیں مغربی طاقتوں کی طرف سے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ابراہیم رئیسی کا دورِ صدارت 2020 ء کے پارلیمانی انتخابات کے بعد قدامت پسندوں کے ہاتھوں میں طاقت مضبوط ہونے کے عمل کو مزید مستحکم کرنے کا سبب بنے گا۔ رئیسی نے گزشتہ ماہ پارلیمان سے اپیل کی تھی کہ وہ ‘تعاون‘ کا مظاہرہ کرے تاکہ ایرانی عوام کو اپنے مستقبل پر اعتماد ہو اور وہ آنے والے وقتوں سے کچھ اچھی امیدیں وابستہ کر سکیں۔ رئیسی کا کہنا تھا،” میں اپنے ملک کے مستقبل سے بہت امیدیں رکھتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ہم تمام تر مشکلات پر قابو پا لیں گے۔‘‘

ماہرین کی رائے

اٹلی کے یورپی یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ کے ایک محقق کلیمنٹ تھرمے کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے سبب ایران کے نئے صدر کو سنگین اقتصادی مشکلات کا سامنا ہو گا۔ اس اطالوی ریسرچر کا مزید کہنا تھا،” رئیسی کی سب سے زیادہ توجہ ایران کے اپنے ہمسائے ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری پر مرکوز ہو گی۔ ان کا اولین مقصد اپنے ملک کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانا ہو گا، جس کے لیے انہیں پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی چین اور روس کے ساتھ بھی تہران کو اپنے اقتصادی تعلقات کی بہتری پر توجہ دینا ہو گی۔‘‘

بائیڈن انتظامیہ اور تہران

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2015 ء میں طے پانے والے ایٹمی معاہدے سے تین سال بعد دستبرداری اختیار کی اور تہران پر دوبارہ اور سخت تر پابندیاں عائد کر دیں، جن کے سبب ایران کو اپنے بیشتر ایٹمی وعدوں سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ اب ٹرمپ کے جانشین جو بائیڈن نے ایٹمی معاہدے کی طرف امریکا کی واپسی کی تیاری کا عندیہ دیتے ہوئے ایٹمی ڈیل میں شامل دیگر فریقین برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس کے ساتھ باضابطہ اور ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی پابندیوں کے سبب ایران کے اہم ترین تیل کی برآمدات کا گلا گھٹ کر رہ گیا ہے اور اس ملک کی معیشت 2018 ء اور 2019 ء میں چھ فیصد سکڑی ہے۔

منگل کی تقریب سے ابرائیم رئیسی کے باضابطہ طور پر صدارتی منصب کے آغاز کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ آئندہ جمعرات کو وہ پارلیمان کے سامنے اپنے عہدے کا حلف اُٹھائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں