مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ توڑنے والا ملزم گرفتار

لاہور (ڈیلی اردو) لاہور کے شاہی قلع میں نصب برصغیر سے قبل کے پنجاب کے سابق مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کو توڑنے والے ملزم کو گرفتار کرکے اس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا۔

ملزم کی جانب سے رنجیت سنگھ کے مجسمے کو توڑنے کی ویڈیو 17 اگست کو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) لاہور غلام محمود ڈوگر نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم رضوان کو گرفتار کیا۔

سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے نوجوان رضوان سیر کی غرض سے پیر کو لاہور قلعہ میں آئے ہوئے تھے، جہاں انہوں نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کو نقصان پہنچایا۔

مجسمہ توڑنے کے دوران ویڈیو میں ملزم  ’لبیک یا رسول اللہ‘ کا نعرہ لگاتے رہے۔ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جس وقت ملزم مجسمہ توڑ رہے ہیں، اسی دوران شاہی قلعے کی انتظامیہ موقع پر پہنچی اور ملزم کو کھینچتے ہوئے مجسمے سے دور لے گئی۔

پنجاب کے سابق حکمران کے مجسمے کو توڑے جانے پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے بھی ٹوئٹ کی اور کہا کہ ملزم کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے مجسمے توڑنے والے ملزم کو ذہنی طور پر بیمار شخص بھی قرار دیا، مذکورہ واقعے سے قبل بھی رنجیت سنگھ کے مجسمے کو 2019 میں توڑا گیا تھا۔

اگست 2019 میں بھی دو ملزمان نے شاہی قلعے میں دیگر لوگوں کی موجودگی میں ہتھوڑوں سے رنجیت سنگھ کے مجسمے پر حملہ کرکے اسے توڑ دیا تھا۔

رنجیت سنگھ کا مجسمہ ان کی آخری آرام گاہ کے قریب نصب ہے، شاہی قلعے کی مائی جِندا حویلی میں راجہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کی 27 جون 2019 کو ان کے 180ویں یوم وفات کے موقع پر نقاب کشائی کی گئی تھی۔

سکھوں کے روایتی لباس میں گھوڑے پر سوار اور ہاتھ میں تلوار لیے مہاراجہ کا کانسی سے بنا یہ مجسمہ 9 فٹ اونچا ہے۔

سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے نوجوان رضوان سیر کی غرض سے پیر کو لاہور قلعہ میں آئے ہوئے تھے، جہاں انہوں نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کو نقصان پہنچایا۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کون تھے؟

مہاراجہ رنجیت سنگھ نے انیسویں صدی کے آغاز میں لاہور کو فتح کیا۔ ایک اندازے کے مطابق انھوں نے پنجاب پر چالیس برس حکمرانی کی۔ یہ وہی دور ہے جس میں سکھوں کو برصغیر پر مکمل طور پر حکمرانی کرنے کا موقع ملا۔ اس خطے میں ہندووں اور مسلمانوں کی حکمرانی کی تاریخ کئی ہزار سال پر محیط ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ دوسرے ایسے حکمران تھے جنھوں نے خطے میں امن اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں