بہاولنگر: یوم عاشور کے مرکزی جلوس میں دھماکا، 3 افراد ہلاک، 50 سے زائد زخمی

لاہور (ڈیلی اردو) صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولنگر میں یومِ عاشورہ کے موقعے پر مرکزی امام بارگاہ کے باہر دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ابتک تین افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق یومِ عاشور کے موقعے پر جامعۃ الزہراء سے برآمد ہونے والے پہلے ماتمی جلوس میں دھماکہ ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔

دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سٹی پولیس افسر محمد اسد اور ایک شیعہ رہنما خاور شفقت نے بم دھماکے کی تصدیق کی۔

خاور شفقت کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب عاشورہ کے موقع پر ماتمی جلوس مہاجر کالونی کے گنجان محلے سے گزر رہا تھا۔

پولیس اور رینجرز نے دھماکے سے متاثرہ علاقے کو گھیرے میں لے کر سیل کردیا۔ دھماکے کی تحقیقات شروع کردیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔ عینی شاہدین سے بھی تفتیش کی جارہی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزم نے جلوس پر دستی بم پھینکا جس سے زور دار دھماکا ہوا۔

عینی شاہدین نے صحافیوں کو بتایا کہ جب جلوس ایک مسجد کے قریب پہنچا تو پولیس اور انتظامیہ کا کوئی اہلکار قریبی یا مسجد کی چھتوں پر موجود نہیں تھے اور اسی اثنا میں جلوس کے شرکا پر دو ہینڈ گرینیڈ پھینکے گئے۔

خیال رہے کہ آج ملک بھر کے مختلف شہروں میں عاشورۂ محرم کے جلسے جلوس اور تعزئیے برآمد ہوں گے جس کیلئے فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی۔

نواسہ رسول ﷺ، حضرت حسین علیہ اسلام اور ان کے جانثاروں کی عظیم قربانی کی یاد میں آج پاکستان اور دنیا کے مختلف حصوں میں عاشورہ محرم کے جلوس نکالے جارہے ہیں۔

ملک کے کئی شہروں میں سکیورٹی کے پیش نظر موبائل فون سروس بند ہے جبکہ سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نشترپارک سے برآمد ہو گا، جلوس سے قبل مرکزی مجلس سے علامہ شہنشاہ حسین نقوی خطاب کریں گے اور واقعہ کربلا میں امام حسین اور ان کے رفقا کی قربانی کی یاد تازہ کریں گے۔

بعد از مجلس مرکزی جلوس نشترپارک سے بوتراب اسکاؤٹس کی قیادت میں برآمد ہو گا جو روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کھارادر میں حسینیہ ایرانیان پر اختتام پزیر ہوگا، جلوس کے شرکاء تبت سینٹر پر علامہ شہنشاہ حسین نقوی کی اقتدا میں نماز ظہرین ادا کریں گے۔

سکیورٹی کے سخت انتظامات

جلوس کی گزرگاہ کی طرف آنے والی گلیاں اور سڑکیں کنٹینر لگا کر سیل کی گئی ہیں جبکہ گزرگاہ کی عمارتوں پر پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات ہیں، جلوس کی گزرگاہ کو بم ڈسپوزل اسکواڈ سے سرچنگ کروائی جارہی ہے اور جلوس کی طرف آنے والے ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ جلوس کی گزرگاہ پر موبائل فون سروس معطل ہے جبکہ اطراف کی عمارتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات ہیں۔

ہزاروں پولیس اہلکار تعینات

کراچی میں یوم عاشور کے مرکزی جلوس کی نگرانی اور سکیورٹی کے لیے پولیس کے 6 ہزار سے زائد افسران و اہلکار تعینات ہیں۔

10 محرم الحرام کو شہر میں مجموعی طور پر 513 مجالس اور 281 جلوس برآمد ہوں گے، مجالس اور جلوس کی سکیورٹی کے لیے 12 ہزار 455 پولیس کے افسران و اہلکار تعینات ہیں، خواتین کمانڈوز، سینئر افسران، اسپیشل سکیورٹی یونٹ اور ریپڈ رسپانس فورس کے اہلکار تعینات ہیں، مرکزی جلوس کے راستوں اور گزرگاہوں پر 1000 سے زائد ٹریفک پولیس اہلکار بھی تعینات ہیں۔

لاہور میں بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات
لاہور میں دسویں محرم کا مرکزی جلوس نثار حویلی اندرون موچی گیٹ سے رات گئے برآمد ہوا، جلوس برآمد ہونے قبل مجلس عزا ہوئی جس میں ذاکرین نے سوز و سلام پیش کیا اور حضرت امام حسینؓ اور آپ کے جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا، جلوس کے روٹ پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جلوس کے اطراف میں موبائل فون سروس بھی بند ہے۔

لاہور کا مرکزی جلوس محلہ شیعاں، وزیرخان چوک، رنگ محل اور بھاٹی گیٹ سے ہوتا ہوا شام کو کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پزیر ہو گا۔

ملک کے مختلف شہروں میں بھی جلوس
کوئٹہ میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس علمدار روڈ سے برآمد ہوا جبکہ راولپنڈی میں مرکزی جلوس تیلی محلہ امام بارگاہ عاشق حسین سے صبح 11 بجے برآمد ہو گا۔ اس کے علاوہ پشاور، سکھر اور گلگت بلتستان میں بھی جلوس نکالے جار ہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں