ترکمانستان صدر کا ‘دوزخ کے دروازے’ کو بند کرنے کا حکم

اشک آباد (ڈیلی اردو) ترکمانستان کے صدر نے ملک میں دوزخ کے دروازے یعنی ‘گیٹ وے ٹو ہیل’ کو بجھانے کا حکم دیا ہے۔

ترکمانستان کے شمال میں ایک بڑا سا گڑھا ہے جسے ‘جہنم یا دوزخ کا دروازہ’ یعنی ‘گیٹ وے ٹو ہیل’ کہا جاتا ہے۔

ترکمانستان کے 70 فیصد حصے پر صحرائے قراقم پھیلا ہوا ہے۔ ساڑھے تین لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط اس صحرا کے شمال کی طرف ایک بڑا گڑھا ہے جس کا نام گیٹ کریٹر ہے۔

69 میٹر چوڑے اور 30 میٹر گہرے اس گڑھے میں گزشتہ کئی دہائیوں سے آگ سلگ رہی ہے لیکن اس کی وجہ کوئی ‘شیطان’ نہیں بلکہ اس سے نکلنے والی قدرتی گیس (میتھین) ہے۔

صدر قربان قلی بردی محمدوف چاہتے ہیں کہ ان کے اس قدم کو ماحولیاتی اور صحت کی وجوہات کے ساتھ ساتھ گیس کی برآمدات کو بڑھانے کی کوششوں کے طور پر بھی دیکھا جائے۔

ایک ٹیلیویژن پیغام میں صدر قربان قلی نے کہا: ‘ہم اہم قدرتی وسائل کھوتے جارہے ہیں جو ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہو سکتے تھے۔ ہم انھیں اپنے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکتے تھے۔’

انھوں نے حکام کو ‘آگ بجھانے کا کوئی راستہ تلاش کرنے’ کا حکم دیا ہے۔

تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ترکمانستان ‘دوزخ کے دروازے’ میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے قبل سنہ 2010 میں بھی صدر نے ماہرین سے کہا تھا کہ وہ اس آگ کو بجھانے کے طریقے تلاش کریں۔

یہ گڑھا کب بنا؟

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سنہ 1971 میں سوویت یونین کے ماہرینِ ارضیات قراقم کے صحرا میں خام تیل کے ذخائر تلاش کر رہے تھے۔ یہاں انھیں ایک جگہ قدرتی گیس کے ذخائر ملے لیکن تلاشی کے دوران وہاں کی زمین دھنس گئی اور وہاں تین بڑے گڑھے بن گئے۔

ان گڑھوں سے میتھین کے اخراج کا خطرہ تھا، جو فضا میں تحلیل ہو سکتی تھی۔ ایک نظریہ کے مطابق اسے روکنے کے لیے ماہرین ارضیات نے ان میں سے ایک کو آگ لگا دی۔ ان کا خیال تھا کہ چند ہفتوں میں میتھین ختم ہو جائے گی اور آگ خود بخود بجھ جائے گی۔

لیکن کینیڈا کے سیاح جارج کورونیس کا کہنا ہے کہ انھیں اس کہانی کے حق میں کوئی دستاویز نہیں مل سکی جسے سچ سمجھا جائے۔

2013 میں نیشنل جیوگرافک چینل کے لیے بنائے جانے والے پروگرام کے دوران ایک ٹیم ترکمانستان کے اس علاقے میں پہنچی۔ جارج کورونیس اس ٹیم کے رکن تھے۔ وہ یہ جاننے وہاں گئے تھے کہ اس گڑھے میں ‘مسلسل جلتی’ آگ دراصل کب شروع ہوئی۔

لیکن ان کی تحقیق نے سوالات کے جواب دینے کے بجائے مزید سوالات کو جنم دے دیا۔

ترکمانستان کے ماہرین ارضیات کے مطابق یہ بڑا گڑھا دراصل سنہ 1960 کی دہائی میں بنا تھا لیکن اس میں آگ 1980 کی دہائی میں لگی۔

‘رازداری’

مورخ جیرونم پیرووک کا کہنا ہے کہ ‘دوزخ کے دروازے’ کے بارے میں جو پراسراریت ہے وہ مکمل طور پر منطقی ہے۔

جیرونیم نے بی بی سی کو بتایا: ‘یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سوویت یونین کے دور میں کام کیسے ہوتے تھے۔ اس وقت صرف ان مہمات کی معلومات کو عام کیا جاتا تھا جو کامیاب ہوتی تھیں، لیکن ناکام ہونے والے منصوبوں کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ اگر مقامی لوگوں نے کچھ غلط کیا ہے تو وہ نہیں چاہتے کہ دوسرے اس بارے میں جانیں۔’

آگ کا یہ گڑھا جو صحرا کے بیچوں بیچ ابھرا تھا، اس سے جان و مال کے نقصان کا اندیشہ نہ تھا اور اس کا اثر بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس وقت سوویت یونین کے پاس قدرتی گیس یا ایندھن کی کوئی کمی نہیں تھی، وہ ہر سال سات لاکھ کیوبک میٹر قدرتی گیس پیدا کرتا تھا۔ ایسے میں عین ممکن ہے کہ گیس کو جلا دینا ان کے لیے ایک قابل عمل تجویز ہو۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘سوئٹزرلینڈ جیسا ملک ہر سال 15 ہزار سے 16 ہزار کیوبک میٹر قدرتی گیس استعمال کرتا تھا، لیکن اس کا چار گنا جلا کر ختم کر دینا سوویت یونین کے لیے کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ عقلی طور پر اسے پائپ لائن کے ذریعے منتقل کرنے کے بجائے انھوں نے اسے جلانے کا فیصلہ کیا ہوگا۔ قدرتی گیس کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے انھیں یہاں بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام کرنا پڑتا۔’

کورونیس کی تحقیقی ٹیم میں شامل مائکرو بایولوجسٹ سٹیفن گرین کہتے ہیں کہ ‘میتھین کو ماحول میں بے قابو چھوڑ دینا ایک برا خیال ہے اور اسے جلانے کا فیصلہ قابل فہم ہے۔‘

‘یہ بہت خطرناک ہو سکتا تھا۔ کیونکہ جب تک آگ لگی رہے گی، میتھین گیس ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی، ورنہ وقتاً فوقتاً وہاں کسی بڑے دھماکے کا خطرہ رہتا۔’

یہ درست ہے کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس چھوڑنا نقصان دہ ہے لیکن میتھین گیس کو فضا میں چھوڑنا اس سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ عراق، ایران اور امریکہ جیسے کئی ممالک بھی اسے فضا میں چھوڑنے کے بجائے جلا دیا جاتا ہے۔

جیرونم پیرووک کا کہنا ہے کہ ‘بدقسمتی سے یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا اب تک کوئی حل تلاش نہیں کیا جاسکا ہے۔’

بہت سے لوگ آگ دیکھنے جاتے ہیں

یہ گڑھا ترکمانستان کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔

ترکمانستان کے صدر نے اپنے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا: ‘ہم اپنے قیمتی قدرتی وسائل کھو رہے ہیں جن سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انھیں اپنے لوگوں کی بھلائی کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔’

انھوں نے حکام کو آگ پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔

تاہم اس سے قبل بھی آگ بجھانے کی کئی کوششیں کی جا چکی ہیں۔ اس سے قبل سنہ 2010 میں بھی صدر نے ماہرین کو آگ بجھانے کے طریقے تلاش کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم، اس کے بعد سنہ 2018 میں صدر نے باضابطہ طور پر اس کا نام تبدیل کر کے ‘شائننگ آف قراقم’ رکھ دیا۔

یہ میتھین پھیلانے والا گڑھا ہر سال تقریباً چھ ہزار سیاحوں والے اس ملک کے سب سے بڑے سیاحتی مقامات میں سے ایک بن گیا ہے۔

صحرائے قراقم میں یہ گڑھا رات کے وقت بھی دور سے نظر آتا ہے اور بہت سے سیاح اسے دیکھنے جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں