110

پن بجلی منافع ٗ وفاق سے فوری ادائیگی کا مطالبہ

پشاور ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے کی مالی ضروریات کے پیش نظر پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں صوبے کے شیئر اور بقایا جات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے جو تقریبا65 ارب روپے بنتے ہیں۔انہوں نے نئے ضم شدہ اضلاع میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور اس مقصد کیلئے فنڈز کی جلد فراہمی یقینی بنانے کیلئے معاملے کو وفاقی سطح پر اُٹھانے کا عندیہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت صوبے میں بزنس کو آسان ترین بنانے ، نئے اضلاع کی ترقی ، مالی بنیاد کو مستحکم کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ متعدد اقدامات کر رہی ہے ۔ ترقی اور اصلاح کے اس مجموعی عمل میں وفاقی حکومت سے وابستہ بنیادی نوعیت کے مسائل فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ بارڈر پر مسائل حل کرنے اور وہاں کاروباری سرگرمیوں کوسہولت دینے سے تجارت و صنعت سمیت سیاحت کو بھی فروغ ملے گا جو صوبے اور نئے قبائلی اضلاع کے دیر پا مفاد میں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ ارباب شہزاد سمیت سینئر صوبائی وزیر محمد عاطف خان، وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا ،صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر ،وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش ، مشیر برائے توانائی حمایت اللہ خان ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش متعلقہ محکمو ں کے انتظامی سیکرٹریزاور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو صوبے میں بزنس کو آسان بنانے ، پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں صوبے کے حصے اور بقایا جات کی ادائیگی ، ضم شدہ اضلاع میں تعمیر نو اور تجارتی سرگرمیوں کے احیاء، داسو ڈیم کیلئے زمین کے حصول ، لینڈ کمپیوٹرائزیشن ، ٹیکس میں اصلاحات ، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی ، بجلی چوری کے سدباب اور صوبے کی معاشی بنیاد بہتر بنانے کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات پر تفصیلی بریفینگ دی گئی اجلاس میں صوبے کی مالی حالت اور اس سلسلے میں مطلوبہ اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاوزیراعلیٰ نے کہا کہ اُنکی حکومت عوام کی ترقی خوشحالی کے مجموعی اہداف کے حصول کیلئے دستیاب وسائل کے مطابق نظر آنے والے اقدامات کر رہی ہے ۔

صوبے کی مالی بنیاد کو مستحکم بنانے کا عمل بھی جاری ہے تاہم صوبے کی فوری مالی ضروریا ت کا تقاضہ ہے کہ صوبے کو بجلی کے خالص منافع میں شئیر بمعہ بقایا جات کی فوری ادائیگی کی جائے ،ارباب شہزاد نے بقایاجات کی ادائیگی کے مسئلے کو وفاقی سطح پرحل کرنے کی یقین دہانی کرائی اجلاس میں نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے فنڈز کی جلد فراہمی کی ضرورت سے بھی اتفاق کیا گیا اور عندیہ دیا گیا کہ مسئلے کو وفاقی سطح پر اُٹھایا جائے گا،اجلاس میں طورخم ، غلام خان اور انگور اڈہ بارڈر پر تجارتی سرگرمیوں کو درپیش مسائل حل کرنے ، ٹریڈنگ روٹس پر چوکیاں ختم کرنے کی تجاویزپیش کی گئی اور غیر ملکی تاجروں / سرمایہ کاروں کو بینک اکاونٹ کھولنے کے اُصولی فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں آئندہ ہفتے وفاقی سطح پر اعلیٰ سطح اجلاس بلانے کا فیصلہ کیاگیا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بارڈر پر تجارتی سرگرمیوں کومزید سہل بنانے اور وہاں پر درپیش مسائل حل کرنے کی اشد ضرورت ہے ،انہوں نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کیلئے بارڈر زپر سہولیا ت کی فراہمی سے سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔اجلاس میں داسو ڈیم کیلئے اراضی کے حصول کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں