221

قومی اسمبلی: نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت، گستاخ رسول پر لعنت کےنعرے، فیصل واوڈا پھنس گئے

اسلام آباد( ڈیلی اردو) فیصل واوڈا کے خلاف قرارداد مذمت کی اجازت نہ ملنے پر قومی اسمبلی اجلاس جمعیت علمائے اسلام ف نے حکومت کے خلاف شدید احتجاج اور نعرے بازی کی، ضمنی مالیاتی بل کی کاپیاں پھاڑ دی۔

اپوزیشن ارکارن اسمبلی سے واک آوٹ کر گئی، شدید ہنگامہ آرائی کے بعد اپوزیشن کی عدم موجودگی میں ضمنی ترمیمی مالیاتی بل منظور کر لیا گیا۔

ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالشکور بلند آواز میں قومی اسمبلی اجلاس میں نعرہ تکبیر ، نعرہ رسالت اور گستاخ رسول پر لعنت کے نعرے لگاتے رہے۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران جب قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران جب مائیک جمعیت علمائے اسلام ف کے مولانا اسد محمود کے حوالے کیا گیا تو ا نہوں نے اپنی تقریر کےدوران قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی تو اسپیکر اسمبلی نے انہیں قرارداد پڑھنے سے روک دیا اور کہا کہ قواعد اس کی اجازت نہیں دیتے قواعد کے تحت پہلے آپ کو اپنی قرارداد پہلے سیکرٹریٹ میں جمع کرانی ہوتی ہے اس لیے آپ قرارداد کا نوٹس جمع کرائیں۔

اس موقع پر مذہبی سیاسی جماعت کے ارکان مولانا عبد الشکور نعرہ تکبیر ، نعرہ رسالت کے نعرے لگاتے رہے، اسپیکر اسمبلی نے اس دوران فنانس بل کی شق وار منظوری جاری رکھی تو جمعیت علمائے اسلام ف کے اراکین سپیکر ڈائس کا گھیراو کرلیا اور ڈائس کے سامنے کھڑے کو بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

اس دوران دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے۔ اس دوران سپیکرڈائس کے سامنے نعرہ تکبیر اور نعرہ رسالت کے نعرے بھی لگتے رہے۔

مولانا عبدالشکور نے کہاکہ گستاخ رسول پر لعنت ہو، اسپیکر کے لیے اجلاس چلانا مشکل ہو گیا تو انہوںنے وقفہ نماز کے لیے اجلاس 10منٹ کے لیے ملتوی کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں