297

تبدیلی سرکار کا 5 سال میں 50 اداروں کی نج کاری کا حتمی فیصلہ، اہم تصیلات سامنے آگئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پہلے مرحلے میں جن اداروں کی نجکاری کی جائے گی ان میں ایس ایم ای بینک، فرسٹ وومن بینک، بلوکی پاور پلانٹ، حویلی بہادر پاور پلانٹ، مری پٹرولیم، جناح کنونشن سینٹر، لاکھڑا کول مائنز اور سروسز انٹرنیشنل ہوٹل شامل ہیں۔

جب کہ دوسرے مرحلے میں این آئی ٹی ایل، این آئی سی، پی آر سی، اسٹیٹ لائف، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، پاور کمپنیاں، پی آئی ڈی سی، پورٹ قاسم، کے پی ٹی، پی این ایس سی اور پی ٹی سی ایل کی نجکاری ہوگی۔

پاکستان کی روس اور چین کی تقریباً 6 کمپنیوں سے پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ (پی پی پی) کے تحت بحال کرنے اور اس کی صلاحیت کو 11 لاکھ سالانہ سے بڑھا کر 35 لاکھ سالانہ کرنے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے سید مصطفیٰ محمود سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ حکومت کے دو بڑے اور اہم اداروں کا مشترکہ خسارہ تقریباً 600 ارب روپے ہے۔ جس میں صرف پی آئی اے کا خسارہ تقریباً 400 ارب روپے ہے۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ مالی سال 2007-2008 میں آخری مرتبہ پاکستان اسٹیل ملز نے 9 اعشاریہ 5 ارب روپے منافع دیا تھا۔ اس کے بعد سے اس کی مالی حالت زبوں حالی کا شکار ہوئی اور پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے دورحکومت میں اس نے بڑا خسارہ شروع کیا جس پر بالآخر جون 2015 میں اسے بند کردیا گیا۔

سیکرٹری وزارت نجکاری رضوان ملک پارلیمانی وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے حکومت کے نجکاری پروگرام سے متعلق بتایا کہ حکومت نے تقریباً 4 درجن حکومتی اداروں کی دو مرحلوں میں نجکاری کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں آئندہ ڈیڑھ سال میں حکومت 8 حکومتی اداروں کی نجکاری کرے گی۔ ان میں ایس ایم ای بینک لمیٹڈ، فرسٹ وومن بینک لمیٹڈ، 1223 میگاواٹ بلوکی پاور پلانٹ، 1230 میگاواٹ حویلی بہادر پاور پلانٹ، مری پٹرولیم لمیٹڈ (باقی ماندہ شیئرز کی)، جناح کنونشن سینٹر، اسلام آباد، لاکھڑا کول مائنز (اب لاکھڑا کول ڈیولپمنٹ کمپنی) اور سروسز انٹرنیشنل ہوٹل، لاہور شامل ہیں۔

میڈیا کے نمائندوں نے جب سیکرٹری نجکاری سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے حال ہی میں 15 اداروں کو نجکاری کی فہرست سے خارج کیا تھا، ان میں پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز بھی شامل تھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اسٹیل ملز جو کہ پی پی پی موڈ کے تحت چلائی جارہی ہے، وزارت صنعت و پیداوار چین اور روس کی کمپنیوں سے بات چیت کے ساتھ طریقہ کار متعین کرے گی۔ جب کہ ایوی ایشن ڈویژن پی آئی اے کی تنظیم نو کے حوالے سے سخت محنت کررہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دیگر ادارے جنہیں نجکاری پروگرام کی فہرست سے خارج کروایا گیا ہے، ان میں نیشنل بینک آف پاکستان، انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بینک لمیٹڈ (آئی ڈی بی ایل)، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی )، پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ (پی ایس او)، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل)، سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی)، سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے)، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان (یو ایس سی)، پاکستان اسٹیل فیبریکیٹنگ کمپنی لمیٹڈ، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے)، نیشنل کنسٹرکشن لمیٹڈ (این سی ایل)، پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان (پی سی پی) اور پاکستان ریلویز اور اس سے ملحقہ سہولیات، فیکٹریاں، ورکشاپس وغیرہ شامل ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دوسرے مرحلے میں حکومت 41 اداروں کی نجکاری کا منصوبہ رکھتی ہے۔ تاہم متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز سے کہا گیا ہے کہ وہ نجکاری سے متعلق اپنی رائے سے آگاہ کریں۔

ان 41 اداروں میں ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن، نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ لمیٹڈ (این آئی ٹی ایل)، نیشنل انشورنس کمپنی (این آئی سی)، پاکستان ری انشورنس کمپنی (پی آر سی)، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن (ایس ایل آئی سی)، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کاپوریشن لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل)، پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ (فیسکو)، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ (گیپکو)، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ (میپکو)، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ (پیسکو)، حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ (ہیسکو)، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی لمیٹڈ (کیسکو)، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو)، کوٹ ادو پاور کمپنی (کاپکو)، جامشورہ پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (جے پی سی ایل۔جینکو۔I)، سینٹرل پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ، سی پی جی سی ایل (جینکو۔II)، لاکھڑا پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ، ایل پی جی سی ایل (جینکو۔IV)، ناردرن پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ، این پی جی سی ایل (جینکو۔III)، پی آئی اے آئی ایل (روزویلٹ ہوٹل، این وائے اینڈ اسکرائب ہوٹل، پیرس) نیشنل فرٹیلائزرز کارپور یشن اور اس کے یونٹس اور ذیلی ادارے، اسٹیٹ انجینئرنگ کارپوریشن اور اس کے یونٹس اور ذیلی ادارے، ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس (ایچ ای سی)، پاکستان مشین ٹول فیکٹری (پی ایم ٹی ایف)، پاکستان انجینیئرنگ کمپنی (پیکو)، پاکستان انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی آئی ڈی سی) اور اس کے یونٹس، سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ (ایس ای ایل) مورافکو انڈسٹریز (مشینری جہاں ہے وہاں کی بنیاد پر)، ریپبلک موٹرز لمیٹڈ (آر ایم ایل)، پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر، ایکسپورٹ پراسیسنگ زون اتھارٹی، پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے)، کراچی پورٹ ٹرسٹ(کے پی ٹی)، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی)، ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان (ٹی آئی پی) ہری پور، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) اور نیشنل بک فائونڈیشن شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں