171

منی لانڈرنگ کی رقوم پشاور منتقل ہونے کا انکشاف

کراچی (ڈیلی اردو) فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کراچی نے 6. کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ٹیکس چوری اور 2 ارب کی منی لانڈرنگ کا سراغ لگالیا ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق 6 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ٹیکس چوری اور 2 ارب کی منی لانڈرنگ میں محمد رضوان اور محمد اجمل نامی افراد غیرقانونی لین دین میں ملوث پائے گئے ہیں۔

دونوں کے 8 بینک اکاؤنٹس سے 2 ارب روپے مالیت کی مشکوک ٹرانزیکشنزکی گئی ہیں۔ ایف بی آرکے متعدد نوٹسز بھیجے جانے کے باوجود دونوں افراد روپوش ہوگئے ہیں۔ رضوان اور اجمل نے بینکوں میں خشک میوہ جات، کان کنی اور برتنوں کا کاروبار ظاہر کیا ہوا ہے۔ دونوں افراد نے کپڑا، گھی، چائے اور جائیداد کی خرید و فروخت کی مدمیں ادائیگیاں کیں جو ان کے ظاہر کردہ کاروبار سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

ایف بی آر نے ایف اے ٹی ایف کے تناظر میں مشکوک بینک لین دین پر کریک ڈاؤن سخت کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں افراد نے بینک اکاؤنٹس کراچی میں کھولے اور رقوم پشاور کے مختلف بینکوں میں منتقل کی گئیں۔

ایف بی آر کے نوٹس کے مطابق محمد اجمل کے کاروباری ادارے سلطان کراکری کے بینک اکاؤنٹ میں آنے والے 48 کروڑ 90 لاکھ روپے پشاور کے بالکل مختلف اور غیرمطابقتی اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی یعنی یہ رقم جس کاروباری بینک کھاتے میں منتقل کی گئی وہ سلطان کراکری کے کاروبار سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا تھا اسی وجہ سے ٹرانزیکشن کو مشکوک قرار دیا گیا۔

اسی طرح محمد اجمل نے کول مائننگ کے کاروبار کے نام پردوسرے نجی بینک میں اکاؤنٹ کھولا جہاں انھوں نے اپنے دفتر کا پتہ وہی درج کیا جو سلطان کراکری کے دفتر کا تھا حالانکہ ان کے پاس متعلقہ ادارے کا کوئی لائسنس یا سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا، اس بینک کھاتے سے ماہانہ اوسط 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کی ٹرانزیکشن کی گئیں، یہ بات بھی محسوس کی گئی کہ محمد اجمل کے بینک کھاتوں سے روزانہ پشاور کی بینک شاخوں میں متعدد مرتبہ فنڈ ٹرانسفر کیے جاتے رہے جس کی ستمبر 2015 تک مجموعی مالیت 14 کروڑ 70 لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی۔بھاری رقوم کے برعکس محمد اجمل نے کبھی اپنا ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کیا اور وہ ٹیکس نادہندگان میں شامل ہیں۔

اس نوٹس میں ان سے رقوم کا ذریعہ حصول کی دستاویز اور کاروبار کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں کیونکہ ایف بی آر کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ رقم ٹیکس چوری کے زمرے میں شمار کی جارہی ہے اور اگر یہ وضاحت پیش نہیں کی گئی تو محمد اجمل کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ایف بی آر نے اسٹار ٹریڈرز کے محمد رضوان کو بھی اسی طرح کا ایک نوٹس ارسال کیا ہے اس نوٹس میں بھی ان 60 کروڑ روپے کا حساب مانگا گیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں