175

قطری شہزادوں پر جیل میں تشدد، قطر میں بغاوت پھوٹ پڑی، عرب ممالک میں ہلچل مچ گئی

دوحہ (ڈیلی اردو) قطر کے حکمراں خاندان کی بہو اسماء ریان نے شکوہ کیا ہے کہ قطر کو بڑے جیل خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ خود شاہی خاندان کے بچے طرح طرح کے مسائل جھیل رہے ہیں۔

شیخ طلال بن عبدالعزیز، بن احمد، بن علی آل ثانی کی بیگم اسماء ریان نے بتایا کہ قطر کے حکمران، شاہی خاندان کے فرزندوں کو جیل میں ڈال کر ان پر تشدد کر رہے ہیں۔

اسماء ریان قطر کے بانیان میں سے ایک کے بڑے بیٹے کی بیگم ہیں۔ ان کے پاس جرمن شہریت ہے۔اسماء نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے شوہر کے والد شیخ طلال قطر میں وزیر صحت بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے 4 بیٹے ہیں۔

اسماء نے جمعرات کو جنیوا میں سوئس پریس کلب کے سامنے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امیر قطر شیخ تمیم کے سرکاری اہلکار شیخ طلال قدیمی عداوت رکھتے ہیں۔ انہیں جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ 2013ء میں انہیں 22برس قید کی سزا سنائی گئی تھی ابھی تک جیل میں ہیں۔

اسماء نے بتایا کہ قطر کے حکمرانوں نے میرے خاوند کو باپ کا ترکہ حوالے کرنے کے بہانے دھوکے سے دوحہ بلایا وہ بھی شوہر کے ہمراہ قطر چلی گئی تھیں۔ تب سے شروع ہونے والا المیہ اب تک جاری ہے۔ اسی کے ساتھ شیخ طلال کے بیٹوں کے خلاف بھی انتقامی کارروائی شروع کر دی گئی۔ بوگس چیک جاری کرنے اور قرضوں کی رقم ادا کرنے کے بہانے خاندان پر زبردست دباؤ ڈالا گیا۔

اسما کا کہنا ہے کہ ہمیں حکمرانوں نے دیوالیہ کر دیا ہے ہمارے پاس اب کچھ بھی نہیں۔ بچوں کی تعلیم کے اخراجات تک برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ اسماء نے یہ بھی بتایا اس کے شوہر کو اقتدار میں کسی بھی طرح کے مطالبہ سے باز رکھنے کیلئے مختلف کاغذات پر دستخط کرائے گئے جس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ذہنی مریض ہیں۔

اسماء نے اپنا بیان ختم کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر کے خلاف ساری سازشیں صرف اس لئے کی گئیں کیونکہ انہوں نے حقوق کا مطالبہ کردیا تھا۔ اسماء نے کہا کہ اب وہ عالمی میڈیا سے صرف اس لئے بات کر رہی ہیں کیونکہ وہ قطر کے حکمرانوں کے ساتھ تصفیے کی تمام کوششوں میں ناکام ہو گئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں