خیبرپختونخوا میں تشدد کی حالیہ لہر، پانچ ماہ میں 177 حملے

پشاور (ڈیلی اردو/بی بی سی) کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے ایک جانب پاکستانی حکام کے ساتھ افغانستان میں جاری مذاکرات کے دوران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کر رکھا ہے تو دوسری جانب صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں قتل و غارت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

جنگ بندی کا یہ سلسلہ عید الفطر سے پہلے شروع ہوا تھا اور عید کے بعد 15 مئی تک اس میں توسیع کر دی گئی تھی، پھر اچانک اس میں 30 مئی تک مزید توسیع کی گئی ہے۔

تشدد کی حالیہ لہر کے دوران فوجی، نیم فوجی اہلکار، پولیس جوان، اقلیتی ارکان، اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں سے بیشتر خاص کر اقلیتی برادری کے ارکان کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے بھی ہلاک کیا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے پشاور کے علاقے تھانہ سربند کی حدود بٹہ خیل بازار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو سکھ تاجروں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

کشیدگی کی یہ حالیہ لہر کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات کس سطح پر ہو رہے ہیں اور یہ ماضی کے مذاکرات سے کتنے مختلف ہیں۔

اس حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو کیا کوئی دوسری مسلح تنظیم جیسے نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) اس کا فائدہ اٹھا سکتی ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بارے میں وفاقی حکومت کی جانب سے کسی قسم کا کوئی بیان جاری نہیں کیا جا رہا۔

یہی سوالات لے کر ہم نے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سے بارہا رابطہ کیا اور انھیں واٹس ایپ پر سوالات بھی بھیجے لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔

اسی طرح محکمہ خارجہ کے ترجمان سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن ان کی جانب سے بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

تاہم خیبر پختونخوا میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر سیف نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹی ٹی پی کے ساتھ حکومت کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو اس میں صوبائی حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی بیان دے سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات کی باتیں میڈیا میں آ رہی ہیں اور اس میں اگر فوج کسی سطح پر بات چیت کر رہی ہے تو وفاقی حکومت ہی اس بارے میں جواب دے سکتی ہے۔

حالیہ تشدد میں ٹی ٹی پی ملوث ہے یا داعش؟

خیبرپختونخوا میں تشدد کے واقعات میں حالیہ اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے جنگ بندی کے اعلان میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔

سینیئر تجزیہ کار عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے کہ اگرچہ افغانستان میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس کے باوجود تشدد کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں تو یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ ان واقعات میں کون ملوث ہے۔

پشاور کے سی سی پی او اعجاز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور ہمیشہ سے شدت پسندوں کی ہِٹ لسٹ پر رہا ہے اور ان واقعات کی ذمہ داریاں کالعدم تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں جو واقعات پیش آئے ہیں ان میں بیشتر واقعات کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کچھ عرصہ پہلے حکیم ستنام سنگھ اور عیسائی پادری ولیم سراج کے قتل کی ذمہ داری بھی داعش یا آئی ایس نے لی تھی اس طرح کوچۂ رسالدار کی مسجد میں دھماکہ، دو سکھ تاجروں کی ہلاکت، پشار میں انٹیلیجنس بیورو کے اہلکاروں اور پولیس پر حملوں کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی ہے۔

اعجاز خان نے بتایا کہ اگرچہ داعش کے آپریٹرز یہاں زیادہ نہیں ہیں لیکن اس تنظیم کی سفاکیت کی وجہ سے جو بھی کارروائی کرتے ہیں اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ داعش کیسے یہاں اتنی متحرک ہوئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان میں اس تنظیم پر دباؤ بڑھا تو اس کے کارکن یا تو یہاں شفٹ ہوگئے ہیں یا ان کے جو کچھ آپریٹرز تھے ان کے ساتھ کچھ ملے ہوں گے۔

’اس کے علاوہ یہاں جرائم پیشہ افراد بھی افغانستان میں جا کر ان تنظیموں میں شامل ہوتے ہیں کیونکہ ان جرائم پیشہ افراد کو یہاں چھپنے کی جگہ نہیں ملتی تو وہ ایسی تنظیموں کا سہارا لیتے ہیں اور اس کے لیے پھر ان جرائم پیش افراد کو فنڈنگ بھی ان ہی تنظیموں کی جانب سے ہوتی ہے۔‘

خیبر پختونخوا میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا کہ ’صوبے میں تشدد کے واقعات ضرور پیش آ رہے ہیں اور داعش کی جانب سے اکا دکا واقعات کی ذمہ داری قبول کی جا رہی ہے جن میں سکھوں، مسیحی برادری کے افراد اور پولیس اہلکاروں پر حملے شامل ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’صرف اتنا ہی خطرہ ہے اور یہ ریاست کے لیے کوئی بڑا چیلنج یا خطرہ نہیں ہے۔‘

بیرسٹر سیف کا مزید کہنا کہ ’ان واقعات کی ذمہ داری داعش نے خود قبول کی ہے اور یہ امن و امان کی صورتحال ضرور ہے لیکن کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’طالبان کے مذاکرات کے بعد صوبے میں اب داعش حملے کر رہی ہے لیکن القاعدہ یا کوئی دوسری اس طرح کی تنظیم یہاں فعال نہیں ہے۔‘

بیرسٹر سیف نے کہا کہ ’پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے متحرک ہیں اور اس بارے میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔‘

اب تک کس قسم کے واقعات پیش آئے ہیں؟

گذشتہ جمعرات کے روز صبح شاہ پور تھانے کے ایس ایچ او شکیل خان اپنی گاڑی میں ڈیوٹی پر جا رہے تھے۔

ان کا تعاقب دوسری گاڑی میں کیا جا رہا تھا اور پھر اچانک ایک مقام پر ایس ایچ او کی چلتی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور شکیل خان اس حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ وہ اس علاقے میں کافی مقبول تھے جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ماضی میں وہ ٹی وی کے ڈراموں میں کام کرتے رہے ہیں۔

دو روز پہلے یعنی بدھ کے روز پشاور میں سرکی کے علاقے میں نامعلوم افراد نےانٹیلیجنس بیورو کے اہلکاروں پر حملہ کیا تھا۔

یہ کارروائی بھی اسی طرح تھی جب نامعلوم افراد نے گاڑی پر فائرنگ کی، جس میں آئی بی کے افسر نجیب بیٹھے تھے۔ پولیس کے مطابق افسر نجیب اس کارروائی میں ہلاک جبکہ ان کے ساتھی اور ایک راہگیر زخمی ہوئے۔

اسی طرح پانچ روز پہلے اتوار کے دن دو سکھ تاجروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ دونوں تاجر پشاور کے معروف علاقے ڈبگری کے رہائشی تھے لیکن ان کا کاروبار بٹہ تل کے مقام پر تھا۔

یہ پشاور شہر کا وہ علاقہ ہے جو ضلع خیبر کے علاقے باڑہ کے ساتھ واقع ہے۔ دونوں تاجر صبح کاروبار کے لیے جاتے تھے اور شام کو گھر واپس آ جاتے تھے لیکن اتوار کے روز ان کی واپسی زندہ حالت میں نہیں ہوئی۔

اسی طرح شمالی وزیرستان میں میر علی کے علاقے میں اساتذہ کی گاڑی کے قریب دھماکے سے ایک استاد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایک سکول کے ساتھ بھی دھماکہ ہوا ہے۔

اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے بعض علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

ان کارروائیوں کی وجہ سے علاقے میں خوف پایا جاتا ہے، پشاور کے معروف رہائشی علاقے حیات آباد میں چند روز پہلے ایک فیکٹری کے باہر دھماکہ ہوا تھا جس میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔

پانچ ماہ میں 177 حملے؟

افغانستان میں گذشتہ سال اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں شدت آئی اور وقت گزرنے کے ساتھ ان حملوں میں اضافہ ہوتا گیا۔

اب ذرائع ابلاغ میں شائع خبروں کے مطابق خیبر پختونخوا میں پانچ ماہ میں تشدد کے 177 واقعات پیش آئے ہیں۔

ان واقعات میں 190 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس میں 40 پولیس اہلکار شامل ہیں جبکہ جوابی کارروائیوں میں 70 شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر حملے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاوہ پشاور میں ہوئے ہیں۔

پاکستان کے مذاکرات افغانستان میں؟

یہ شاید پہلا موقع ہو گا جب پاکستان میں امن کے قیام کے لیے افغانستان میں طالبان کی مدد حاصل کی گئی ہے اور افغان طالبان ہی اس میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان مذاکرات میں پاکستان کے جانب سے کون قیادت کر رہا ہے اس بارے میں سرکاری سطح پر کچھ نہیں کہا جا رہا ہے۔

لیکن سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور موجودہ کور کمانڈر پشاور فیض حمید کو کابل میں دیکھا گیا ہے۔ طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ فیض حمید براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں ہیں لیکن وہ اس کے لیے کابل ضرور آئے تھے۔

اس دوران ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ افغانستان میں مذاکرات جاری ہیں اور جنگ بندی میں توسیع 30 مئی تک کر دی گئی ہے۔

اس بیان میں کہا گیا تھا کہ مذاکرات کے لیے محسود قبیلے کے 32 اور ملاکنڈ سے 16 افراد شامل ہیں اور ان کمیٹیوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

اس بارے میں عقیل یوسفزئی اور قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی صفدر داوڑ کا کہنا ہے کہ ’مذاکرات جاری ہیں اور اس عمل کو بڑھایا جا رہا ہے لیکن اب تک کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی پاکستان کی جانب سے سرکاری سطح پر ان مذاکرات کے بارے میں کوئی تفصیلات دی جار رہی ہیں۔‘

اس کے برعکس دفاعی امور کے ماہر اور تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا ہے کہ ’ٹی ٹی پی کے ساتھ سرکاری سطح پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے بلکہ ٹی ٹی پی کے لوگ پاکستان واپسی کے لیے راستہ اور محفوظ علاقہ مانگ رہے ہیں کیونکہ ٹی ٹی پی کے لوگ اگر واپس آتے ہیں تو اپنے علاقوں میں ان کی دشمنیاں ہیں اور ان کے لیے اپنے علاقے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔‘

ماضی کے مذاکرات اور اب کے مذاکرات میں کیا فرق ہے؟

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات کیے جا رہے ہیں بلکہ اس سے پہلے بھی اس طرح کی کوششیں کی گئی ہیں۔

عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے کہ انھیں ان مذاکرات سے کسی بڑی پیش رفت کی امید نہیں ہے کیونکہ چند ماہ سے اس بارے میں کوششیں جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ بڑی بات یہ ہے کہ اس مرتبہ افغان طالبان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ کہ افغان امارات اسلامی کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں اور یہ کہ امارات اسلامی اس میں ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کے مطابق ’ایک جرگہ اگر کوئی بات چیت کر رہا ہے تو وہ جرگہ کس حیثیت سے بات چیت کر رہا ہے یا کس کی ایما پر بات چیت کر رہا ہے کسی کو معلوم نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت تھوڑی خائف ہے کیونکہ قبائلی علاقوں اور پختونخوا میں لوگ ان مذاکرات کے خلاف ہیں اور اس وقت حکومت کے پاس صرف ایک راستہ ہے کہ طالبان پر دباؤ بڑھا دے اور سرحد پر سکیورٹی بڑھائی جائے۔‘

آخری قدم کے طور پر اگر افغانستان میں مداخلت بھی کرنا پڑے تو ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق لیکن حکومت ٹی ٹی پی سے مذاکرات نہیں کر سکتی کیونکہ یہ آئین کے خلاف ہے اور اس سے حکومت طالبان کو ایک قوت کا درجہ دے دے گی۔

حکومت اور مسلح تنظیم کے مذاکرات میں عام آدمی کہاں ہے؟

خیبرپختونخوا اور خاص طور پر قبائلی علاقوں میں جاری کشیدگی میں جہاں ریاست اور مسلح تنظیمیں آمنے سامنے رہیں وہاں ان علاقوں کے لوگ بھی متاثر ہوئے اور ان میں کئی مقامات پر مسلح تنظیموں کے افراد کی مقامی قبائلی اور انفرادی طور پر دشمنیاں بھی بنی ہیں۔

مقامی لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اس صورتحال میں اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں اور ٹی ٹی پی کے لوگ کھل عام اپنے علاقوں کو واپس آتے ہیں تو ان کے رویے مقامی لوگوں کے ساتھ کیسے ہوں گے؟

مقامی صحافی صفدر داوڑ کا کہنا ہے کہ ’ان کی اطلاع کے مطابق مذاکرات حتمی نتیجے تک پہنچنے کے قریب ہو رہے ہیں اور اب معلوم نہیں ہے کہ اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا یا خاموشی سے اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں اس طرح کے مذاکرات کے نتیجے میں عوام کو نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ نیک محمد اور حکومت کے درمیان شکئی معاہدے کے بعد مقامی لوگوں کے لیے مشکلات بڑھ گئی تھیں، تاجر اور دیگر کاروباری لوگ ان مذاکرات سے اپنے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسے مذاکرات کے نتیجے میں پھر شدت پسند اپنے علاقوں میں آکر کارروائیاں کرتے ہیں، تو ایسے میں عام لوگوں کی زندگی پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔‘

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مطالبات میں ایک بڑا مطالبہ قیدیوں کی رہائی کا رہا ہے اور اس بارے میں طالبان ذرائع نے بعض قیدیوں کی رہائی کی تصدیق کی ہے لیکن ان قیدیوں کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا۔

ان قیدیوں میں دو اہم نام مسلم خان اور محمود خان کے شامل ہیں۔ ان کی بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں طالبان رہنماؤں کو افغان طالبان کے حوالے کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر 30 قیدیوں کے نام سامنے آئے ہیں جنھیں رہا کیا گیا ہے جبکہ طالبان کی جانب سے بظاہر 102 قیدیوں کی فہرست حکومت کو دی گئی تھی۔

بریگیڈیئر محمود شاہ کا کہنا تھا کہ ’مقامی لوگوں کی دشمنیاں ہیں، ان شدت پسندوں کے ہاتھوں کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں ان کی جائیدادیں تباہ ہوئی ہیں تو یہ لوگ جب اپنے علاقوں میں جائیں گے تو وہاں ان کی دشمنیاں پیدا ہوں گی۔‘

مقامی لوگوں نے بتایا کہ ماضی میں ان مذاکرات کے نتیجے میں شدت پسندوں نے کچھ علاقوں میں ایک طرح سے اپنا قانون اور اپنا نظام رائج کر دیا تھا جس میں وہ خود اپنے طور پر لوگوں کے فیصلے کیا کرتے تھے۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے کہا کہ ’حکومت کو اس بارے میں افغانستان کے حکمرانوں سے کہنا ہو گا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے تو اس سے حالات بہتر ہو سکتے ہیں، مذاکرات سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں