نائجیریا میں توہین مذہب کے مبینہ واقعے کے بعد بدامنی اور آتش زنی

ابوجا (ڈیلی اردو) شمالی نائجیریا میں ایک مسیحی شہری کی طرف سے توہین مذہب کے ایک مبینہ واقعے کے بعد ایک مشتعل ہجوم نے بدامنی پھیلانا شروع کر دی۔

پولیس کے مطابق صوبے باؤچی کے قصبے وارجی میں ایک خاتون کی طرف سے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مذہبی پیغام شائع کیے جانے کے بعد مشتعل شہریوں کے ایک ہجوم نے توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ اس دوران کئی گھروں اور دکانوں کو آگ بھی لگا دی گئی۔

پولیس نے بتایا کہ اس بدامنی میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ مقامی باشندوں کے مطابق یہ ہجوم اس وقت قابو سے باہر ہو گیا تھا جب اسے وہ مسیحی خاتون نہ ملی، جو مبینہ طور پر توہین مذہب کی مرتکب ہوئی تھی۔

مسلم اکثریتی ملک نائجیریا میں گزشتہ چند روز کے دوران یہ اپنی نوعیت کا تیسرا پرتشدد واقعہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں