بلوچستان: خودکش حملوں کیلئے مزید بلوچ خواتین کو استعمال کیے جانے کا خدشہ

کراچی (ڈیلی اردو/وی او اے) پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں، سیکیورٹی ماہرین اوربلوچ سیاسی کارکنوں میں یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ آیا بلوچستان کی کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں نے اب بلوچ خواتین کو اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

بلوچستان میں فعال کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں سے مبینہ تعلق اوردہشت گردی خصوصاً خودکش حملوں میں استعمال ہونے کے الزامات کی بنا پرحال ہی میں دو بلوچ خواتین کی گرفتاری کے خلاف صوبے کے مکران ریجن میں کئی روز تک احتجاج کیا گیا۔

سیکیورٹی اداروں نے کراچی سے بلوچ شاعرہ حبیبہ پیر جان کو 19 مئی کو حراست میں لیا تھا لیکن انہیں دو روز بعد رہا کر دیا گیا جب کہ 15 مئی کو بلوچستان کے علاقے ہوشاپ سےگرفتار ہونے والی نور جہاں بلوچ اب بھی زیرِ حراست ہیں۔

نور جہاں بلوچ پر انسدادِ دہشت گردی کے تحت مقدمہ بنایا گیا ہے اور ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے قبضے سے خودکش جیکٹ اور اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

بلوچستان کے معاملات سے باخبرحلقے بلوچ خواتین کی حالیہ گرفتاریوں کو کراچی یونیورسٹی میں 26اپریل کو ہونے والے خود کش حملے سے جوڑ رہے ہیں۔ اس حملے کی ذمے داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی ذیلی تنظیم مجید بریگیڈ نے قبول کی تھی جس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ تنظیم کی جانب سے خاتون خودکش حملہ آور کو استعمال کیا گیا۔

اعلان میں مزید میں بتایا گیا تھا کہ یہ حملہ شاری بلوچ نے کیا تھا جس کے نتیجے میں تین چینی اساتذہ سمیت چار افراد ہلاک ہو ئے تھے۔

بی ایل اے نے مزید کہا تھا کہ خودکش حملوں کے لیے تشکیل کردہ علیحدہ یونٹ ‘مجید بریگیڈ’ کے درجنوں اعلیٰ تربیت یافتہ مرد وخواتین فدائین مہلک حملوں کے لیے مکمل تیارہیں۔

بلوچستان میں عسکریت پسندی اورخواتین

وائس آف امریکہ نے کراچی اورکوئٹہ میں جامعہ کراچی خودکش حملے کی تحقیقات سے واقف قانون نافذکرنے والے اہلکاروں سے بات کی ہے۔ جن کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں خصوصاً کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اورکالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ نے حالیہ برسوں کے دوران تعلیمی اداروں میں بلوچ نوجوانوں کوبھرتی کیاہے اور ایک بڑی تعداد میں نوجوان خواتین بھی ان تنظیموں کا حصہ بنی ہیں جن میں شاری بلوچ بھی شامل تھیں۔

کوئٹہ میں تعینات ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد تحقیقات کی روشنی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے مبینہ خواتین عسکریت پسندوں کو تلاش کر رہی ہیں جو مستقبل میں خود کش حملے کرنے یا ان حملوں میں سہولت کار بن سکتی ہیں۔

ان کے بقول، “اس ضمن میں مزید گرفتاریاں ہونے کا بھی امکان ہے۔”

حکومتِ بلوچستان کی ترجمان فرح عظیم شاہ نے بھی 18 مئی کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں خواتین کو بھرتی کر رہی ہیں۔

فرح عظیم شاہ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ہوشاب سے گرفتارہونے والی نورجہاں بلوچ نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ وہ ‘مجید بریگیڈ’ کی رکن ہیں اور بی ایل اے کے کمانڈر اسلم بلوچ عرف اچھو کی اہلیہ یاسمین خواتین کو دہشت گردی کی تربیت دے رہی ہیں۔

خیال رہے کہ بی ایل اے کے سربراہ اسلم بلوچ عرف اچھو دسمبر 2018 میں افغانستان کے شہر قندھار میں ایک خودکش حملے میں اپنے پانچ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد بشیرزیب بی ایل اے کے سربراہ نامزد ہوئے۔

اسلم بلوچ عرف اچھو نے ہی مجید بریگیڈ قائم کی تھی۔ رسمی طورپر اس تنظیم کے قیام کا اعلان مارچ 2010 میں کیا گیا تھا لیکن اس کی پہلی سرگرمی 30 دسمبر 2011 کو کوئٹہ میں سامنے آئی تھی۔ اگست 2018 میں بلوچستان کے شہر دالبندین میں چینی انجینئروں کے قافلے پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں اسلم بلوچ عرف اچھو کے صاحبزادے ریحان بلوچ نے حصہ لیا تھا۔

ترجمان بلوچستان حکومت نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ہوشاب سے گرفتار ہونے والی نور جہاں نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ وحیدہ، حمیدہ اور فہمیدہ نامی خواتین کالعدم بی ایل اے کا حصہ ہیں اورانہیں خودکش حملوں کے لیے تربیت دی جاچکی ہے۔

البتہ نورجہاں بلوچ اورحبیبہ پیرجان کے رشتہ داروں اوربلوچ تنظیموں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دعووں کی تردید کی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے حبیبہ پیرجان کی کزن نے بتایاکہ حبیبہ بے گناہ ہے اوران کا کسی بھی لسانی یا مذہبی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما آمنہ بلوچ کہتی ہیں بلوچ خواتین کو حراست میں لینے کے واقعات ماضی میں ہوتے رہے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ نورجہاں اورحبیبہ کے ان واقعات نے اس سارے عمل کو دوبارہ دہرایاہے۔

ان کے بقول، “قانون نافذ کرنے والے ادارے نورجہاں کے بارے میں دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ گھر کےا ندرخودکش جیکٹ پہننے کی تیاری کررہی تھیں۔ اس بات کوسننے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ کوئی رات کے آخری پہر خودکش جیکٹ پہنتے ہوئے کہاں جا کر بمباری کرسکتاہے۔”

بلوچستان میں فعال سیاسی جماعت نیشنل پارٹی کے ایک مرکزی رہنما نے کہاکہ حکومت اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلوچ اورپختون معاشرے میں خواتین کے عزت وناموس اوراس کے اثرات کومدنظر رکھتے ہوئے اپنی کارروائیاں کرنی چاہئیں۔

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرنام شائع نہ کرنےکی شرط پرانہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کراچی میں خودکش حملہ کرنے والی شاری بلوچ کو بنیاد بنا کربلوچ خواتین کے خلاف کارروائیوں سے یہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید گھمبیر ہوسکتاہے۔

ان کے بقول، “بلوچستان میں خواتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کی شدت کو دیکھتے ہوئے حبیبہ پیرجان کو رہاکرنا ایک احسن عمل ہے۔”

سنگاپور میں قائم ایس راجہ رتنم سکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز میں ریسرچ فیلو عبدالباسط کے مطابق پاکستان میں خودکش حملے دوبارہ شروع ہونا اور ان میں خواتین کے استعمال کا عمل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کرسامنے آیاہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے خواتین خودکش بمباروں کا پتا لگانا اور واقعے سے قبل انہیں روکنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔

بلوچ خواتین کی ماضی کی گرفتاریاں

ماضی میں متعدد بلوچ خواتین کو کالعدم بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ معاونت کے مبینہ الزام میں گرفتار کیا گیا تھا مگر بعد میں انہیں رہا کردیا گیا۔

سن2019 کے اواخر میں بلوچستان کے ضلع آواران سے چار بلوچ خواتین کو کالعدم بی ایل اے اوربی ایل ایف کے ساتھ سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیاتھا۔

پولیس نے اُس وقت جاری کردہ بیان میں گرفتار خواتین سے دستی بم، تین پستول اور گولیاں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسی طرح 30 اکتوبر2017 کو بی ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ سمیت چار خواتین اور تین بچوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

اُس وقت کے صوبائی وزیرِداخلہ میر سرفراز بگٹی نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھاکہ ان خواتین میں ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ ، بی ایل اے کمانڈر اسلم بلوچ عرف اچھو کی بہن اور کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ کے ڈپٹی کمانڈر دلیپ کی اہلیہ شامل تھیں جنہیں افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن سے گرفتار کیا گیا۔

البتہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری نے بلوچ رسم ورواج کے تحت گرفتار خواتین کو چادر پہنا کر رہائی کا حکم دیا تھا۔

پاکستان میں خواتین کے خودکش حملے

جامعہ کراچی میں ہونے والا خودکش حملہ پاکستان میں کالعدم بلوچ علیحدگی پسندوں کی جانب سے کسی خاتون کے ذریعےکیا جانے والا پہلا حملہ ہے۔

البتہ ماہرین کا کہناہے کہ کالعدم بلوچ علیحدگی پسندوں کی طرف سے خاتون خودکش بمبار کا استعمال پاکستان کے عسکریت پسندی کے منظرنامے میں کسی نئے مرحلے کے آغاز کو ظاہر کرنے کے بجائے ایک پرانے رجحان کے تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے۔

پاکستان میں خودکش حملے ویسے تو 2002 میں شروع ہوئے تھے مگر کسی خاتون کی طرف سے پہلا خودکش حملہ 2010 میں ہوا تھا۔ جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ ایک برقعہ پوش خاتون نے باجوڑ میں ورلڈ فوڈ پروگرام نامی بین الاقوامی ادارے کے خوراک کی تقسیم کے مرکز کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں 45 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں