بی جے پی رہنماوں نے مسلم مخالف اقدامات کو ‘کارنامہ’ قرار دیا

نئی دہلی (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کی ایک تقریب کے دوران بی جے پی کی حکومت والی مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے مسلم مخالف پالیسیوں اور اقدامات پر فخرکیا۔ انہوں نے ‘مسلم دشمنی پر مبنی’ کارروائیوں کو اپنے اپنے ‘کارنامے’ کے طور پر پیش کیے۔

ہندو قوم پرست تنظیم آرایس ایس کے ہفت روزہ اخبارات ہندی کے ‘پانچ جنیہ’ اور انگلش کے ‘آرگنائزر’ کے 75 برس مکمل ہونے پر دہلی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ، آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی نے اپنی اپنی ریاستوں میں مسلم مخالف اقدامات کو اپنے اپنے کارناموں کے طور پر پیش کیا۔ مسلم رہنماوں نے اس کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے اسلاموفوبیا کا بدترین نمونہ قرار دیا ہے۔

سڑکوں پر نماز عید پر پابندی بڑا “کارنامہ”

یوگی ادیتیہ ناتھ نے اپنی ریاست میں امن و قانون کے حوالے سے سابقہ حکومتوں سے اپنی حکومت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ مذہبی تہواروں کے دوران کئی ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے لیکن اترپردیش میں کوئی فساد نہیں ہوا۔

ادیتیہ ناتھ کا کہنا تھا،”سن 2012 سے 2017 کے درمیان اترپردیش میں 700 فسادات ہوئے۔ مظفر نگر، میرٹھ، مرادآباد اور دیگر مقامات پر فسادات ہوئے، مہینوں تک کرفیو نافذ رہے۔ لیکن پچھلے پانچ برسوں کے دوران اترپردیش میں کوئی فساد نہیں ہوا۔”

یوگی ادیتیہ ناتھ نے اپنے’کارناموں’ کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “آپ نے دیکھا ہوگا کہ رام نومی کا تہوار کتنے شاندار طریقے سے منایا گیا، ہنومان جینتی کی تقریبات بھی پرامن طور پر گذریں۔ یہ وہی یوپی ہے جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر فسادات ہوتے تھے۔ اور آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ پہلی مرتبہ رمضان میں جمعتہ الوداع اور عید الفطر کی نمازیں سڑکوں پر نہیں ہوئیں۔ اور مسجدوں سے لاوڈاسپیکر پوری طرح غائب ہوچکے ہیں۔”

انہوں نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر اور بنارس میں کاشی وشو ناتھ مندر کمپلکس کی تزئین نو نیز ریاست میں “غیر قانونی” ذبیحہ خانوں کو بند کیے جانے کو بھی اپنا کارنامہ قرار دیا۔

‘تمام مدارس کا وجود ختم ہوجانا چاہئے’

آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا کا کہنا تھا کہ لفظ مدرسہ کو ہی مٹا دینا چاہئے کیونکہ “جب تک یہ لفظ باقی رہے گا اس وقت تک کوئی بچہ نہ تو ڈاکٹر اور نہ ہی انجینئر بن سکے گا۔ مدارس میں بچوں کو داخل کرانا انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے آسام میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ریاست میں مذہبی تعلیمات پر پیسے خرچ کرنا بند کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، اگر کسی کو قرآن پڑھانا ہی ہے تو اسے اپنے گھر میں پڑھائے لیکن اسکول میں تو عمومی تعلیم ہی دی جائے گی۔”

انہوں نے اپنے متنازع بیان میں کہا “تمام مسلمان دراصل ہندو ہیں۔ اس دھرتی پر کوئی بھی مسلمان نہیں آیا۔ اس دھرتی پر رہنے والے تمام ہندو ہیں۔ اس لیے اگر کوئی مسلم بچہ قابل تعریف کام کرتا ہے تو اس کا سہرا اس کے ہندو ماضی کو جاتا ہے۔”

یکساں سول کوڈ کا فیصلہ

اتراکھنڈ کے وزیر اعلی دھامی نے یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے اور دراندازوں کی شناخت کے لیے خصوصی مہم چلانے نیز تبدیلی مذہب کے خلاف قانون کو سخت بنانے جیسے اپنے کارناموں کا ذکر کیا۔

دھامی نے کہا،”ہم نے یونیفارم سول کوڈ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی قانونی ماہرین اور دیگر فریقین سے صلاح و مشورے کرے گی اور اس کے سفارشات کو نافذ کیا جائے گا۔” انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر ریاستیں بھی ان کے اس اقدام کی تقلید کریں گی۔

‘یہ سب اسلاموفوبیا کی بدترین مثال ہیں’

مسلم تنظیموں نے بی جے پی رہنماؤں کے ان بیانات کی سخت نکتہ چینی کی ہے۔ بھارتی مسلمانوں کی سماجی اور مذہبی تنظیموں کی نمائندہ انجمن آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت کرتے کہا، “بی جے پی کے ان وزرائے اعلی نے جو بھی کہا ہے وہ اسلاموفوبیا کا بدترین نمونہ ہے۔ اس طرح کے بیانات کا مقصد نفرت کی سیاست کو برقرار رکھنا اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈال کر ماحول کو گرم رکھنا ہے، تاکہ انہوں نے’نفرتی فوج’ کی جو بٹالین تیارکی ہے ان کو خوراک ملتی رہے۔”

نوید حامد کا کہنا تھا جن لوگوں کو مدرسے کا مطلب ہی معلوم نہیں وہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ حالانکہ بہت سی مشہور ہندو شخصیات نے مدارس میں تعلیم حاصل کی ہے۔

نوید حامد کا کہنا تھا جب مسلمان اسکول بناتے ہیں توحکومت اسے منظوری دینے میں اتنے روڑے اٹکاتی ہے کہ وہ اس سے توبہ کرلیتے ہیں۔ حکومت خود ہی مسلم اکثریتی علاقوں میں اسکول کیوں تعمیر نہیں کرتی؟ اگر اسکول نہیں ہوں گے تو بچے مدرسے ہی تو جائیں گے؟ آخر یہ لوگ مسلم بچوں کو ناخواندہ کیوں رکھنا چاہتے ہیں؟”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں