پشاور میں ریجنل پولیس انسپکٹر کی ہلاکت، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی

اسلام آباد (ش ح ط) صوبہ خیبر پختونخوا کے صوبائی حکومت پشاور کے صدر سرکل تھانہ انقلاب کی حدود میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے فرنٹیئر ریجنل پولیس (ایف آر پی) کے ریجنل انسپکٹر (آر آئی) کو ہلاک کر دیا۔

سی سی پی او پشاور کے مطابق انسپکٹر سحر گل صبح اپنے بچوں کو سکول لے کر جا رہا تھا جہاں راستے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے انسپکٹر ہلاک ہوگیا جبکہ بچے خیریت سے ہیں۔ ملزمان فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے۔

سی سی پی او کے مطابق پولیس موقع پر موجود ہے جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

دوسری جانب ایس ایس پی آپریشنز ہارون رشید نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، ایس ایس پی انوسٹی گیشن شہزادہ کوکب فاروق بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ایس ایس پی آپریشنز نے تفتیشی عمل کا جائزہ لیا جبکہ ایس ایس پی انوسٹی گیشن شہزادہ کوکب فاروق نے جائے وقوعہ سے ملنے والے اہم شواہد اور اب تک ہونے والی تفتیش سے آگاہ کیا۔

ایس ایس پی آپریشنز نے جدید سائنسی تحقیقات پر استوار تفتیش، اور باریک بینی سے جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کا مشاہدہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔

ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق ہیومن انٹیلی جنس کو فعال کر دیا گیا ہے اور جلد ملوث عناصر کو بے نقاب کر لیا جائے گا۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم داعش نے انسپکٹر سحر گل پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

انسپکٹر کی نماز جنازہ پشاور کے ملک سعد شہید پولیس لائن میں کی گئی۔ ایڈیشنل آئی جی ایلیٹ فورس، کمانڈنٹ ایف آر پی، سی سی پی او محمد اعجاز خان، کمشنر پشاور ڈویژن، ایس ایس پی آپریشنز ہارون رشید، 102 بریگیڈ آرمی آفیسرز، میئر پشاور اور اعلیٰ پولیس افسران نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے تھانہ انقلاب کی حدود میں پولیس پر نامعلوم افراد کے فائرنگ کی مذمت کی ہے۔

وزیراعلیٰ نے واقعے میں پولیس انسپکٹر کی ہلاکت پر اظہار تعزیت اور انکے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

محمود خان کا کہنا تھا کہ حکومت انسپکٹر کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑے گی، صوبے میں امن و امان کے لیے پولیس نے لازوال قربانیاں دی ہیں اور اس طرح کے واقعات سے پولیس کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا پولیس پر ٹارگٹڈ حملے اک معمول بن گئے ہیں، 19 مئی کو پشاور ہی میں تھانہ شاہ پور کے ایس ایچ او شکیل خان دہشت گردوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔ ایس ایچ او شکیل خان پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کی تھی۔

اس سے قبل 155 مئی پشاور کے علاقہ سربند میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو قتل کر دیا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی کالعدم داعش خراسان کی جانب سے قبول کرلی گئی تھی۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کے مطابق بٹہ تل چوک میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے رنجیت سنگھ، کول جیت سنگھ نامی دو افراد موقع پر دم توڑ گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں