225

ملا عمر پر نئی کتاب سے امریکی موقف اور انٹلی جنس ایجنسیوں کو بڑا دھچکا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) افغانستان میں حملے کے بعد سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے متعدد بار دعوی کیا کہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کی طرح افغان طالبان کے بانی سربراہ ملا عمربھی پاکستان میں مقیم رہے جہاں سے وہ طالبان کی قیادت کرتے تھے۔

تاہم ڈچ صحافی بیٹے ڈیم نے اپنی نئی کتاب ’دی سیکرٹ لائف آف ملا عمر‘میں دعویٰ کیا ہے کہ ملا عمر کبھی بھی پاکستان میں رہائش پذیر نہیں رہے ہیں، بلکہ وہ افغانستان میں ایک اہم امریکی فوج اڈے سے چند فرلانگ کے فاصلے پر کئی برس تک رہائش پذیر رہے ، لیکن امریکی خفیہ ادارے انہیں تلاش کرنے میں ناکام رہے۔

اردو نیوز کے احمد نور نے اس حوالے سے افغان امور کے ماہر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی اور سینئر صحافی طاہر خان کے ساتھ بات کرکے جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس کتاب میں دی گئی معلومات کس حد تک مصدقہ ہیں ، اس کی اشاعت کے بعد امریکی بیانیے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور پاکستان کے موقف کو کتنی طاقت ملے گی۔

ڈچ مصنفہان کا کہنا تھا کہ ’اس کتاب میں جو انکشافات کئے گئے ہیں وہ کافی حد تک درست ہیں اور اس سے امریکی حکام کے اس موقف کو دھچکا لگا ہے کہ وہ پاکستان میں مقیم رہے۔

ان کے مطابق وہ بیٹے ڈیم کو کئی برسوں سے جانتے ہیں اور ان سے کئی مرتبہ مل بھی چکے ہیں۔‘ انہوں کہا کہ وہ اس کتاب کی تصنیف کے لیے پانچ برس سے تحقیق کر رہی تھیں اور اس دوران انہوں نے متعدد صحافیوں اور طالبان رہنماؤں سمیت جبار عمری کے ساتھ بھی گفتگو کی جنہوں نے سنہ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد طالبان سربراہ کے زیر زمین چلے جانے کے بعد ان کے ذاتی محافظ کے طور پر فرائض انجام دیے۔

رحیم اللہ کا کہنا تھا کہ ’ڈچ صحافی نے جو معلومات دی ہیں وہ اس سے پہلے کبھی سامنے نہیں آئیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ باتیں ان طاقتوں کو پسند نہ آئیں جنہوں نے ایک جھوٹا پراپیگنڈہ کیا تھا کہ ملا عمر پاکستان میں زیر علاج رہے ہیں اور کوئٹہ میں بیٹھ کر طالبان شوری کی قیادت کر رہے تھے۔‘

تاہم انہو ں نے ڈچ صحافی کی اس بات سے اختلاف کیا کہ ملا عمر کبھی پاکستان نہیں آئے تھے۔ ان کے مطابق 1980 کی دہائی میں طالبان سربراہ سویت جنگ کے ددوران زخمی ہوگئے تھے جس سے ان کی ایک آنکھ ضائع ہوئی تھی اور اس کے علاج کے لیے وہ ایک مرتبہ پاکستان آئے تھے، لیکن بھر جلد ہی واپس چلے گئے تھے۔

رحیم اللہ کاکہنا تھا کہ وہ یہ بات وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ ملا عمر پاکستان پر اعتماد نہیں کرتے تھے، لیکن ان طالبان رہنما کے ساتھ متعدد ملاقاتیں ہوئیں جس کی بنیاد پر وہ یہ کہہ سکتے ہیں وہ ایک خودار انسان تھے جو یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان پر پاکستان کی طرف سے مدد دی جانے کی چھاپ لگے۔

کتاب میں جبار عمری کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ملاعمر سنہ 2013 میں کھانسی، متلی اور بھوک میں کمی کا شکار ہوئے لیکن کسی قسم کی دوا لینے سے انکار کیا جبکہ عمری نے انہیں ڈاکٹر بلانے یا پاکستان لے جانے کی پیش کش کی لیکن وہ انکاری رہے اور 23 اپریل کو انتقال کرگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کتاب کسی پاکستانی صحافی نہیں بلکہ ایک غیر ملکی مصنف نے لکھی ہے جو طالبان کی ہر گز حمایتی نہیں ہیں۔انہوں کہا کہ اس سے مزید باتیں سامنے آئیں گی، لیکن امریکہ ایک طاقتور ملک ہے اور محض ایک کتاب امریکی بیانیے کو زیادہ متاثر نہیں کر سکتی۔

پاکستان اور افغان امور پر نظر رکھنے والے صحافی طاہر خان کا کہنا تھا اس کتاب نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، لیکن ملاعمر کی وفات کے بعد بہت لوگوں کو علم تھا کہ وہ افغانستان میں چل بسے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ملاعمر کے پاکستان نہ جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے وہ خود کو وہاں محفوظ نہیں سمجھتے تھے۔ان کاکہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی موجودہ قیادت بھی یہ نہیں چاہتی کہ لوگ کہیں کہ پاکستان ان کی مدد کر رہا ہے۔

طاہر خان نے کہا کہ اس کتاب کی اشاعت سے افغان خفیہ ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی اور امریکہ کے اس موقف کی نفی ہوئی ہے کہ وہ پاکستان میں زیر علاج رہے یا وہاں رہ کر طالبان کی قیادت کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کتاب دلائل پر مبنی ہے اور اس پر امریکی حکام اور اٖفغان سکیورٹی ادارے نے کوئی موقف نہیں دیا ہے اوراگر وہ اب بھی سمجھتے ہیں طالبان کے بانی پاکستان میں تھے تو وہ اس کا ثبوت پیش کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں