218

ساہیوال: سی ٹی ڈی کی فائرنگ ، مارے جانےوالے افراد دہشتگرد یا بے گناہ؟ واقعہ معمہ بن گیا

اسلام آباد+ ساہیوال ( شبیر حسین طوری/ ڈیلی اردو) پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ساہیوال میں جی ٹی روڈ پر اڈا قادر کے قریب کار میں سوار 2 خواتین سمیت 4 افراد کے جاں بحق اور 3 دہشت گردوں کے فرار ہونے جبکہ 3 بچوں کو بازیاب کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ٹول پلازہ کے پاس سی ٹی ڈی ٹیم نے ایک کار اور موٹرسائیکل کو روکنے کی کوشش کی، جس پر کار میں سوار افراد نے ٹیم پر فائرنگ شروع کردی۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق فائرنگ سے دو خواتین سمیت 4 افراد ہلاک جبکہ 3 دہشت گرد فرار ہوگئے۔

سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق فرار دہشت گردوں میں شاہد جبار، عبدالرحمان اور اس کا ایک ساتھی شامل ہے جبکہ یہ کارروائی فیصل آباد میں 16 جنوری کو ہونے والے سی ٹی ڈی آپریشن کا حصہ تھی۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ جائے وقوع سے خودکش جیکٹس، دستی بم اور اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

اس سے قبل ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی پولیس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ کار میں اغوا کار سوار تھے جبکہ 3 بچوں کو بھی بازیاب کرالیا گیا۔

‏سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کی شناخت ہو گئی، دہشت گرد کی شناخت ذیشان کے نام سے ہوئی ذیشان عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کا مقامی سرغنہ تھا

جبکہ مقامی تھانہ یوسف والا پولیس نے ہلاک شدگان کی شناخت سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی سی ٹی ڈی کی جانب سے کی گئی ہے۔ میڈیا نمائندے جب جائے وقوعہ پر پہنچے تو پولیس نے لاشیں ہٹادیں تھیں اور ثبوت بھی مٹانے کی کوشش کی۔ جبکہ سی ٹی ڈی حکام نے مقامی میڈیا کے نمائندوں کو ہسپتال میں داخل ہونے سے بھی روک دیا گیا۔

دوسری طرف پنجاب پولیس کے اعلی حکام نے اتنے سنگین واقعے پر خاموشی اختیار کرلی ہے اور تاحال کوئی موقف جاری نہیں کیا۔

عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے بعدازاں بچوں کو قریبی پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، جہاں ان کا کہنا تھا کہ ان کے والدین کو مار دیا گیا ہے، جس کے تھوڑی دیر بعد سی ٹی ڈی پولیس بچوں کو اپنے ساتھ موبائل میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئی۔

دوسری جانب زخمی بچے کو اسپتال منتقل کردیا گیا، جس کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بنانے والی گاڑی لاہور کی جانب سے آرہی تھی، جسے ایلیٹ فورس کی گاڑی نے روکا اور فائرنگ کر دی جبکہ گاڑی کے اندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔

صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے بتایا ہے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ہلاک افراد کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلی پنجاب نے آئی جی کو تحقیات کا حکم دیدیا ہے ‏جبکہ ترجمان آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور آر پی او ساہیوال سے رپورٹ طلب کی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں