175

ایس ایچ اوز کو جوڈیشل اختیارات واپس مل گئے

لاہور (ڈیلی اردو) پنجاب میں پولیس اسٹیشنز کے ایس ایچ اوز کو انگریز دور کے جوڈیشل اختیارات واپس سونپ دیے گئے، جس کے تحت اسٹیشن ہاؤس آفیسر تھانے میں ہی ملزمان کی ضمانت کا فیصلہ کرسکے گا، کہ کن جرائم والے ملزمان کو ضمانت دی جاسکتی ہے یا کون سے ملزم کو ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

انگریزی قومی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی جی پنجاب پولیس کی جانب سے صوبے کے تمام تھانوں کو مراسلہ جاری کی گیا ہے جس میں احکامات دیے گئے ہیں کہ پولیس اسٹیشنز متعلقہ احکامات کو فوری طور پر نافذالعمل بنائیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایس ایچ اوز کو ملزمان کی ضمانت پررہائی کے اختیارات کریمنل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی) 1898کی سیکشن 169، 496،اور 497 کے تحت دیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کی جانب سے ایس ایچ اوز کو اختیارات دینے کا فیصلہ اسلام آباد میں اسٹیرنگ کمیٹی برائے پولیس اصلاحات کے ایک اجلاس کے بعد لیا گیا۔

اس سے قبل چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی تھی، چیف جسٹس خود بھی لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے ہی یہ کمیٹی تشکیل دی تھی۔

تاہم سی آرپی سی کے قواعد وضوابط کے مطابق اب تمام پولیس اسٹیشنز کے انچارج ،ایس ایچ اوز ان تمام ملزمان کی خود ضمانت کرسکیں گے جو مختلف کیسز میں ملوث ہوں گے ، ایس ایچ اوز کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ملزمان کے کیس کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق ان کو قابل ضمانت قرار دینے یا پھر ان کی ضمانت مسترد کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہوں گے۔تاہم پولیس چیف پنجاب نے تمام تھانوں کے اسٹیشن ہاؤس آفیسرز کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ کریمنل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی ) 1898کے تحت لوگوں کو ریلیف دینے کا کام شروع کردیا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں