139

نواز شریف کے پاس پلی بار گین کا آپشن اب بھی ہے: وفاقی وزیر فواد چوہدری

اسلام آباد ( ویب ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ صحت کی آڑ میں احتساب نہیں رکے گا، نواز شریف کی 300ارب کی کرپشن نظر انداز نہیں کر سکتے ، انکے پاس پلی بارگین کا آپشن اب بھی ہے بیرون ملک علاج چاہتے ہیں تو پلی بارگین کریں، اپوزیشن کی خواہش پر احتساب کا عمل نہیں رک سکتا، سابق ان کیخلاف کوئی مقدمہ ہمارے دور میں نہیں بنا، نوازشریف کے علاج کیلئے پنجاب حکومت نے غیر معمولی انتظامات کئے لیکن ن لیگ کا ایک گروپ انکی بیماری پر سیاست کرنا چاہتا ہے، لندن میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں فراری کیمپ کھلا ہوا ہے جہاں ن لیگ کے لوگ جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے،سابق وزیر اعظم کو کچھ نہیں ہو گا، عوام کا پیسہ واپس آنا چاہیے۔ وہ اتوار کے روز پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، وزیر صنعت میاں اسلم اقبال، ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر شہباز گل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس بھی موجود تھے۔

چوہدری فواد حسین نےکہا کہ اجلاس میں نواز شریف کو پنجاب حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی علاج معالجہ کی سہولیات کا جائزہ لیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ 16جنوری کو پنجاب حکومت کے پاس نواز شریف کی طرف سے انکی سانس پھولنے اور صحت کی خرابی کی درخواست آئی جسکی روشنی میں ڈاکٹر شاہد حمید کو نواز شریف کی چیکنگ کی ہدایت کی گئی تو انہوں نے چیک اپ کے بعد مزید ٹیسٹوں کیلئے نواز شریف کو پی آئی سی منتقل کرنے کی سفارش کی جس پر 22جنوری کو انہیں پی آئی سی میں منتقل کیا گیا اور ٹیسٹ کئے گئے جسکے بعد اسی دن وہ دوبارہ جیل چلے گئے،25جنوری کو 6رکنی بورڈ تشکیل دیا گیا جس میں پی آئی سی، راولپنڈی کارڈیالوجی کے ڈاکٹرز شامل تھے جنہوں نے 3فروری کو جیل میں نواز شریف سے ملاقات کی اور انہیں اسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا، 2001اور 2017ءکو انکی انجیو پلاسٹی اور جبکہ2016ءمیں ایک بائی پاس بھی ہو چکا تھا لیکن انکی فیملی یہ اصرار کر رہی ہے کہ انہیں لندن بھیجا جائے حالانکہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے پیچیدگی لندن کے ڈاکٹروں کی وجہ سے ہوئی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پنجاب حکومت نے انکے علاج معالجہ کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا۔ اصل میں نواز شریف اور شہباز شریف کو اپنے بنائے ہوئے اسپتالوں پر اعتماد نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں