سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان میں دلچسپی کی وجہ کیا ہے؟ سنسنی خیز انکشافات

اسلام آباد (مانیترنگ ڈیسک ) مائیک پومپو کے پاکستان کے نیوکلئیر اثاثوں سے متعلق بیان نے پاکستان کی عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور اس معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ سابق چئیرمین سینیٹ رضا ربانی نے اس معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی نجم سیٹھی نے کہا کہ امریکہ کو جو پاکستان کے نیوکلئیر اثاثے اپنے لیے خطرہ نظر آ رہے ہیں، اُس کی وجہ سیدھی سی ہے۔

سعودی عرب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئندہ بیس سال کے اندر سولہ نیوکلئیر ری ایکٹر لگائیں گے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اعلان کیا ہے کہ اگر ایران نیوکلئیر بم بنائے گا تو سعودی عرب بھی بنائے گا۔ سعودی عرب نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ نیوکلئیر ری ایکٹرز پر چالیس ارب ڈالرز خرچ کیے جائیں گے۔

نیوکلئیر ری ایکٹرز نیوکلئیر فیول بناتے ہیں۔ جس کے لیے بم بنتے ہیں۔ سعودی عرب تیل بناتا ہے انہیں انرجی کی کیا ضرورت ہے، کہا یہی جاتا ہے کہ یہ سب انرجی کی تنوع کے لیے کیا جارہا ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ سعودی عرب اب نیوکلئیر پروگرام شروع کرنا چاہ رہا ہے۔

دنیا کو اس بات کا احساس ہے کہ سوائے پاکستان کے سعودی عرب کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو اس وقت پیسے کی سخت ضرورت ہے اور دونوں ممالک آپس میں برادر ممالک بھی ہیں۔ ہم جی حضوری بھی کرتے ہیں۔ اسی لیے ایران ہمارے مخالف ہو گیا ہے ، اسی لیے آج کل سعودی عرب ہم میں بڑی دلچسپی کا اظہار کر رہا ہے اور اسی لیے اب امریکہ کو بھی خطرہ نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ کہ کہیں یہ نہ ہو کہ پاکستان خفیہ طور پر نیوکلئیر ری ایکٹرز بنانے میں سعودی عرب کی مدد کرنا شروع کر دے۔ اسی لیے امریکہ نے نشاندہی کی ہے۔

ایک طرف اسرائیل بھی ایران کے نیوکلئیر پروگرام کے حق میں نہیں ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران کا نیوکلئیر پراجیکٹ بند ہو اور وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ سعودی عرب کا بھی نہ بنے۔ اگر سعودی عرب کا بن گیا تو آج محمد بن سلمان ہے کل کو کوئی اور آ سکتا ہے جو اسرائیل کے خلاف ہو۔امریکہ اور اسرائیل کا ماننا ہے کہ دنیا بھر میں جتنی ایٹمی قوتیں ہیں ان میں دو زیادہ ہی ہیں۔ ان کو پانچ ہونا چاہئیے تھا لیکن اب پاکستان اور کوریا کے پاس بھی ایٹمی طاقت ہے۔ ہم پر ایک وقت میں امریکہ کا بہت دباؤ تھا لیکن چونکہ امریکہ کو افغانستان میں ہماری ضرورت ہے لہٰذا اب وہ دباؤ کم ہو گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ جیسے ہی افغانستان سے نکلے گا ایک مرتبہ پھر سے امریکہ پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کو لے کر ہم پر دباؤ ڈالے گا اور یہ میری پیشن گوئی ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں