174

گوادر ائیر پورٹ: مسافروں کو طیارے تک پہنچانے والی بسوں، جہازوں کو تیل تک میسر نہیں

اسلام آباد/ کوئٹہ (نیوز ڈیسک) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ہوائی بازی (ایوی ایشن ) کے رکن سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے انکشاف کیا ہے کہ گوادر ملک کی معیشت کا گڑھ بننے جارہا ہے مگر گوادر ایئر پورٹ پر نہ ہی مسافروں کیلئے بسیں ہیں اور جہازوں کو تیل کیلئے بھی کہیں اور جانا پڑتا ہے گوارد میں عام گاڑیوں کو بھی آئل کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ بات انہوں نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران کہی ، تفصیلات کے مطابق سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ہوائی بازی (ایوی ایشن ) کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشاہد اللہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مالی سال 2019۔20کے PSDPکے مد میں منصوبہ جات کی جانچ پڑتال ، جعلی ڈگری کی بنیاد پر برطرف کئے گئے ۔

پی آئی اے ملازمین کے معاملات کے علاوہ سینیٹر بہرامند خان تنگی کے13نومبر 2018کو اْٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے نیو اسلام آباد انٹر نیشنل ائر پورٹ کے منصوبہ میں کرپشن کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایویشن ڈویژن کے PSDPمیں 10جاری منصوبے جن کی مالیت 1480ملین روپے ہے جبکہ نئے 18منصوبے ہیں جن کی مالیت 4764ملین روپے ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ محکمہ موسمیات کے 5 جاری اور 4 نئے منصوبے جن کی مالیت258 ملین روپے ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے 2 منصوبے1250 ملین کے ہیں ،جبکہ ایئر پورٹ سیکورٹی فورس کے کل14 منصوبہ جات ہیں۔ سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ محکمہ موسمیات کے ریڈارز کوکیا سیکورٹی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے اگر نہیں تو اس حوالے سے چیک کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اس سال ملک میں بارشیں اور برفباری بہت زیادہ ہوئی ہے اور کہا جارہا ہے کہ سپر فلڈ کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔

اس حوالے سے محکمہ موسمیات نے کوئی تحقیق ہے کی ہے آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔ جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2004۔5 میں 94 انچ برفباری ہوئی تھی جبکہ رواں برس60 انچ تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ سیلاب کا خطرہ نہیں ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان سوائے جنوبی پنجاب اور کراچی کے شمال میں باقی سب فالٹ لائن پر ہے۔ پورے ملک کا سروے ہو چکا ہیقائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایوی ایشن کی طرف سے ورکنگ پیپر کی تاخیر سے فراہمی پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔

چیئرمین کمیٹی نے اگرآئندہ 72 گھنٹے کمیٹی اجلاس سے پہلے ورکنگ پیپر فراہم نہ کیے گئے تو قانون کے مطابق کمیٹی ایکشن لے گی۔ قائمہ کمیٹی نے متعلقہ وزیر کی عدم شرکت پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاک فضائیہ نے جو کارنامہ سرانجام دیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایک سینئر آفسیر کے سپیشل اسسٹنٹ کی ایک تصویر گن کے ساتھ وائرل ہوئی ہے جس کا منفی تاثر جاتا ہے ان چیزوں سے احتیاط برتنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے دو ملازموں نے چھٹی کے بعد ایئر پورٹ پر میرا استقبال کیا او ر شائد کچھ نعرے بھی لگائے تو حکام کی طرف سے ان کے ساتھ انتہائی نا مناسب برتاؤ کیا گیا۔ انہیں دھمکیاں دی گئیں اور مختلف جگہوں پر تبادلے بھی کر دیئے گئے آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کی جائے۔

سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے کہا کہ گوادر ملک کی معیشت کا گڑھ بننے جارہا ہے مگر گوادر ایئر پورٹ پر نہ ہی مسافروں کیلئے بسیں ہیں اور جہازوں کو تیل کیلئے بھی کہیں اور جانا پڑتا ہے۔ حیرت کی بات ہے گوارد میں عام گاڑیوں کو بھی آئل کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جس پر سیکرٹری ایوی ایشن نے کمیٹی کو بتایا کہ گوادر میں جلد ٹرمینل یا آئل ڈپو بن جائے گابہت سی کمپنیاں دلچسپی لے رہی ہیں اور ایئر پورٹ پر مسافروں کے جانے والے گاڑیاں فراہم کر دی جائیں گی۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر بہرہ مند خان تنگی کے عوامی اہمیت کے معاملے کے حوالے سے سینیٹر بہرہ مند خان تنگی نے کہاکہ ورکنگ پیپر بروقت نہ ملنے کی وجہ سے وہ پڑھ نہیں سکے معاملے کو آئندہ اجلاس تک موخر کیا جائے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں جعلی ڈگر ی کی بنا ء پر برطرف کیے گئے ملازمین کے معاملات کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ رکن کمیٹی سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے کچھ تفصیلات طلب کی تھیں وہ فراہم کر دی گئیں ہیں بہتر یہی ہے کہ ان کی رائے آنے کے بعد معاملے کا مزید جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جعلی ڈگری کے کیسز کے حوالے سے انتظامیہ نے 8 سزاؤں کو ایک طرف رکھ کے آخری سزا پر زور دیا ہے۔ 20/20 سال کام کرنے والوں کو ملازمت سے نکال دینا کہا ں کا انصاف ہے۔

ا نہوں نے کہا کہ کچھ ایسے کیسز بھی ہیں جن میں ڈبل سزا دی گئی ہے اور کچھ کو بہت کم سزا دی گئی ہے بہتر یہی ہے کہ ہمدردانہ رویہ اختیار کر تے ہوئے درمیانی راستہ نکالا جائے۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ جس انتظامیہ نے 90 دن میں ڈگریوں کو چیک کروانا تھا ان کی لسٹ حاصل کی جائے اور ان کے خلاف بھی ایکشن ہونا چاہیے۔ سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ جعلی ڈگر ی ثابت ہونے پر ضرور فارغ کرنا چاہیے۔ کسی کو کسی کا حق مارنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ کیسز کے خلاف ایکشن تمام قانونی تقاضے پورے کرکے ہونے چاہیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی مشاہد اللہ نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں ایک رپورٹ دی جائے کہ جعلی ڈگری پر کتنے لوگوں کو فارغ کرنے کے علاوہ اور سزا دی گئی۔

کتنے لوگوں کو ڈبل سزا دی گئی اور جن افسران نے ذمہ داری میں غفلت برتی ہے ان کی لسٹ فراہم کی جائے۔قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز مولا بخش چانڈیو ، نعمان وزیر خٹک، ثمینہ سعید ، منظور احمد کاکڑ اور بہرہ مند خان تنگی کے علاوہ سیکرٹری ایوی ایشن شاہ رخ نصرت، سینئر جوائنٹ سیکرٹری ایوی ایشن عبدالستار، ڈائریکٹر سی ای او پی آئی اے ایئر وائس مارشل سبحان ،ڈی جی محکمہ موسمیات، جوائنٹ ڈائریکٹر لیگل سول ایوی ایشن مشبر حسین ودیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں