بلوچستان: تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد

کوئٹہ (ڈیلی اردو) بلوچستان حکومت نے صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں ’سیاسی اور تنظیمی‘ سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔

ڈائریکٹوریٹ آف کالجر اینڈ ہائر ایجوکیشن اسٹڈیز نے بلوچستان کے تمام انٹرمیڈیٹ، ڈگری اور پوسٹ گریجویشن تعلیمی اداروں کے پرنسپلز کے نام ایک مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’اعلیٰ حکام‘ کی ہدایات پر تمام تعلیمی اداروں میں ہر قسم کی سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں پر سخت پابندی ہوگی۔

نوٹیفکیشن میں خبردار کیا گیا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں معطلی و سزا شامل ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر نواب بلوچ نے اس پابندی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت نے طلبہ یونین بحال کرنے کے بجائے تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کردی ہے، یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لینا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کا فیصلہ واپس نہ لیا تو مستقبل میں تعلیمی اداروں سے لیڈرز کے بجائے ’سادہ لوح اور کند ذہن‘ افراد کی کھیپ تیار ہوکر نکلے گی۔​

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں