156

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کو امن کے نوبل انعام کیلئے نامزد کرنے کی مہم کا آغاز

کرائسٹ چرچ (ویب ڈیسک) نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر دہشت گرد حملے کے بعد معاملے کو سنبھالنے پر نیوزلینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کو امن کا نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کا مطالبہ سامنے آگیا۔

نیوزی لینڈ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کو امن کے نابل انعام کے لیے نامزد کرنے سے متعلق 2 قرار داد پر دستخطی مہم شروع کردی گئی۔

ان قراردادوں میں ایک چینج ڈاٹ او آر جی کی جانب سے 4 دن پہلے شروع کی، جس پر 3 ہزار سے زائد دستخط ہوگئے ہیں جبکہ فرانسیسی ویب سائٹ آواز ڈاٹ او آر جی کی جانب سے دوسری پٹیشن پر ایک ہزار سے زائد دستخط ہوچکے ہیں۔

فرانسیسی صفحات کی جانب سے کہا گیا کہ ’کرائسٹ چرچ کے افسوس ناک واقعے پر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے واضح اور پرامن ردعمل دیا، ہم چاہتے ہیں کہ آنے والے نوبل انعام کو وہ وصول کریں‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے نیوزی لینڈ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے بعد نیوزی لینڈ وزیر اعظم کے اقدامات پر دنیا بھر میں تعریف کی گئی تھی۔

ان کے اس اقدامات کا اعتراف کرتے ہوئے دبئی میں برج خلیفہ کو ان کی ایک باحجاب مسلم خاتون سے گلے ملتے ہوئے لی گئی تصویر سے روشن کیا گیا۔

یو اے ای کے وزیر اعظم شیخ محمد نے جیسنڈا آرڈرن کا ’مخلصانہ ہمدردی اور حمایت‘ پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا احترام جیت لیا۔

اس کے علاوہ گزشتہ شب نیو یارک ٹائمز میں ایک اداریے میں ان کے کردار کی تعریف کی گئی۔

واضح رہے کہ 15 مارچ کو جمعے کے روز 2 مساجد میں دہشت گرد حملے 50 افراد کی شہادت کے بعد جیسنڈا آرڈرن نے نیم خودکار ہتھیاروں پر پابندی کے اعلان کے ساتھ ساتھ مسلم کمیونٹی سے ہمدردرانہ رویے پر دنیا بھر کی توجہ حاصل کی تھی۔

نیویارک ٹائمز کے اداریے کا عنوان امریکا بھی جیسنڈا آرڈرن جیسے اچھے لیڈر کا مستحق ہے میں لکھا گیا کہ دنیا کو جیسنڈا آرڈرن سے سکھنا چاہیے، نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے خوف کا جواب دیا ہے‘۔

اداریے میں لکھا گیا کہ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے خاص طور پر گن کنٹرول سے متعلق مسئلے کو سنبھالا، انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب کی بات کو سنا اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کچھ دنون میں حکومت فوجی طرز کے ہتھیاروں پر نئے قوانین متعارف کروائے گی۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15 مارچ جمعہ کے روز النور مسجد اور لِن ووڈ میں دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ نے اس وقت داخل ہوکر فائرنگ کی تھی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔

اس افسوسناک واقعے میں 9 پاکستانیوں سمیت 50 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے اور نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے حملوں کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔

مسجد میں فائرنگ کرنے والے دہشت گرد نے حملے کی لائیو ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر نشر کی، جسے بعد میں نیوزی لینڈ حکام کی درخواست پر دل دہلا دینے والی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا سے ہٹادیا گیا۔

بعد ازاں نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں ملزم پر قتل کے الزامات عائد کردیے گئے تھے۔

اس کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ کی کابینہ نے بندوق کے قوانین میں اصلاحات کرتے ہوئے سخت قوانین کی منظوری دی تھی، اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں پہلی مرتبہ قرآن پاک کی تلاوت ہوئی تھی اور جیسنڈا آرڈرن نے السلامُ علیکم سے خطاب کا آغاز کیا تھا۔

علاوہ ازیں گزشتہ روز نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے اعلان پر دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جمعے کو سرکاری طور پر اذان نشر کی گئی تھی جبکہ 2 منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی تھی۔

مساجد پر حملوں کے بعد آنے والے پہلے جمعے میں مسجد النور کے سامنے ہیلی پارک میں نماز جمعہ کا بڑا اجتماع ہوا تھا، جس میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم اور غیر مسلم افراد نے بھی شرکت کی تھی۔

اس موقع پر نیوزی لینڈ کی فضائیں اللہ اکبر کی صدا سے گونج اٹھیں تھیں جبکہ جیسنڈا آرڈرن کی جانب سے نماز جمعہ سے قبل اجتماع میں حدیث بھی پڑھی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں