134

ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا کا معاملہ نیا رخ اختیار کرگیا

بہاولپور (ویب ڈیسک) گھوٹکی کے شہر ڈہرکی میں دوہندولڑکیوں کےمبینہ اغوا کا معاملہ نیا رخ اختیار کرگیا ہے۔

سندھ کے شہر ڈہرکی سے لاپتہ ہونے والے 2 ہندو لڑکیوں کے مبینہ لاپتہ ہونے کا معاملہ اب حل ہوتے دکھائی دے رہا ہے، دونوں لڑکیوں نے بہاولپور کی عدالت میں تحفظ کے لیے درخواست دائر کردی۔

پولیس کے مطابق ڈہرکی تھانے میں دونوں لڑکیوں کے مبینہ اغواء کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا تاہم 22 مارچ کو دونوں لڑکیوں نے منظر عام پر آکر نکاح کرلیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں بہنوں نے میڈیا کے سامنے اپنی مرضی سے نکاح کا اعتراف کیا تھا۔

دوسری جانب خان پور میں پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لے لیا، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ زیر حراست شخص نے مبینہ طور پر نکاح میں مدد کی تھی۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو دونوں بہنوں کی بازیابی اور معاملے پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت کی تھی۔

دوسری جانب بھارتی وزیر سشما سوراج نے بذریعہ ٹوئٹ بھارتی ہائی کمیشن سے معاملے کی رپورٹ طلب کی تو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے انہیں بھرپور جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ مودی کا بھارت نہیں جہاں اقلیتوں سے ناروا سلوک کیا جاتا ہے، یہ عمران خان کا نیا پاکستان ہے، یہاں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں