189

کرائسٹ چرچ کے شہید سید اریب کی نمازِ جنازہ ادا، سخی حسن قبرستان میں سپرد خاک

کراچی (ویب ڈیسک) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد میں دہشت گرد کی فائرنگ سے شہید ہونے والے سید اریب احمد کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی۔ سید اریب کو سخی حسن قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا

اریب کا جسدِ خاکی آج صبح نجی ایئر لائن ایمریٹس کے ذریعے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچایا گیا جہاں ان کی میت گھر والوں کے حوالے کی گئی۔

اس موقع پر اریب شہید کے اہلِ خانہ ایئرپورٹ پہنچے اور بہت رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔

علاوہ ازیں اہم سرکاری شخصیات بھی اس موقع پر ایئر پورٹ پہنچیں جن میں گورنر سندھ عمران اسمٰعیل، میئر کراچی وسیم اختر اور صوبائی وزیرِ بلدیات سعید غنی بھی شامل تھے۔

شہید کا جسد خاکی کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں ان کے گھر پہنچایا گیا جہاں قریبی مسجد میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔

اریب کی تدفین سخی حسن قبرستان میں کی جائے گی، جبکہ رشتہ داروں اور اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نمازِجنازہ میں شرکت کی۔

خیال رہے کہ 15 مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع 2 مساجد النور اور لِین ووڈ میں دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ نے اس وقت داخل ہوکر فائرنگ کی تھی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔

اس افسوسناک واقعے میں 50 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے حملوں کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔

نیوزی لینڈ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر کے اس کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا، جس کا ٹرائل عدالت میں جاری ہے۔

پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک نے بھی اس دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی، اور جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت بھی کی۔

اس حملے کے وقت دورہ نیوزی لینڈ پر موجود بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم بھی نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے النور مسجد جارہی تھی، تاہم انہوں نے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔

اس دہشت گرد حملے میں 9 پاکستانی شہری بھی جاں بحق ہوگئے تھے جن میں سید اریب احمد بھی شامل تھے، جو ڈیڑھ ماہ قبل ہی پاکستان آئے تھے اور واپس نیوزی لینڈ لوٹے تھے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ اریب سے چھوٹی ان کی ایک بہن ہے، وہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے اور ملازمت کے سلسلے میں تقریباً 2 سال قبل نیوزی لینڈ چلے گئے تھے۔

ترک خبررساں ادارے انادولو سے بات کرتے ہوئے اریب کے ماموں مظفر خان نے کہا کہ وہ ڈیڑھ ماہ قبل اپنی بہن کی منگنی کے موقع پر پاکستان آئے تھے اور اس حوالے سے نہایت خوش دکھائی دے رہے تھے۔

سید اریب احمد پیشے کے لحاظ سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تھے، انہیں پہلے ایک مقامی کمپنی میں ملازمت ملی جس کے بعد 2017 میں وہ نیوزی لینڈ چلے گئے تھے۔

ان کے والد سید ایاز احمد کا کہنا تھا کہ اریب کی موت کی خبر ہمارے لیے کسی دھماکے سے کم نہ تھی، جس پر ہمیں ابتدا میں یقین ہی نہیں آیا، کیونکہ ہمارے گمان میں نہیں تھا کہ ایسا واقعہ نیوزی لینڈ جیسے ملک میں بھی ہوسکتا ہے۔

سید اریب احمد کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا جنہوں نے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹیوشن پڑھائی جبکہ جز وقتی ملازمتیں بھی کیں لیکن کبھی اپنی تعلیم پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

انہوں نے پاکستان کے معروف تعلیمی ادارے سے بہترین نمبروں کے ساتھ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی ڈگری حاصل کی، تعلیم مکمل کرنے کے فوراً بعد انہیں کرائسٹ چرچ میں بہترین ملازمت کی پیشکش کی گئی تھی۔

ان کے والد کا کہنا تھا کہ اریب مکمل طور پر سیلف میڈ شخص تھے، جب انہیں نیوزی لینڈ سے ملازمت کی پیشکش ہوئی تو ہمیں لگا کہ اب ہمارے مشکل دن ختم ہوگئے، ہم اس کی کامیابی پر نہایت خوش تھے۔

آنسو پونچھتے ہوئے اریب کے والد کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں نہیں معلوم تھا کہ مستقبل نے ہمارے لیے کیا سوچ رکھا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے ہمارے تمام خواب چکنا چور ہوگئے‘۔

خیال رہے کہ سید اریب احمد اپنے خاندان کے واحد کفیل اور والدین کی اکلوتی نرینہ اولاد تھے۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں ہونے والے حملے کے بارے میں انہیں اریب کے دفتری ساتھی نے بتایا جو ان کے ساتھ ہی مسجد گئے تھے تاہم خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہے تھے۔

اریب کے ساتھی کو حملے میں اریب کے جاں بحق ہونے کا علم نہیں تھا لہٰذا انہوں نے والدین کو صرف یہ بتایا تھا کہ اریب حملے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

بعدازاں 2 دن بعد جب نیوزی لینڈ میں موجود پاکستان ہائی کمشنر نے اریب کی موت کی تصدیق کی تو گویا ان کے والدین پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں