بہاولپور خالد حمید قتل کیس: پروفیسر کے قتل کے الزام میں تحریک لبیک کا امیدوار قومی اسمبلی ظفر گیلانی گرفتار

اسلام آباد (شبیر حسین طوری) پروفیسر خالد حمید کے قتل کے الزام میں تحریک لبیک پاکستان کا قومی اسمبلی کا امیدوار گرفتار کرلیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم سید ظفر گیلانی کا انسداد دہشت گردی عدالت سے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔

قتل کی تفتیش کے سلسلے میں کہروڑ پکا ، رحیم یار خان ، ڈی جی خان سمیت مختلف شہروں سے مزید 5 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حراست افراد سے آرگنائزڈ کرائم سیل کی جانب سےقتل کے محرکات پر تحقيقات جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق زیر تفتیش افراد کو سوشل میڈیا لنکس کے ذریعے ٹریس کیا گیا

قاتل طالب علم خطیب حسین کا امیدوار قومی اسمبلی حلقہ این اے – 187ظفر گیلانی سے رابطہ تھا۔ گرفتار ملزم ظفر گیلانی کا تعلق پنجاب کے ضلع لیہ سے ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قاتل طالبعلم خطیب حسین نے پروفیسر کے قتل سے ایک رات قبل وٹس ایپ کے ذریعے سید ظفر گیلانی سے رابطے میں تھا۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ملزم خطیب حسین کی آخری کال بھی سید ظفر گیلانی سے ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ چھ روز قبل پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ شعبہ انگریزی میں ‘بی ایس’ پروگرام کے پانچویں سیمسٹر کے طالب علم خطیب حسین کا کالج میں ‘ویلکم پارٹی’ کے انعقاد کے حوالے سے پروفیسر خالد حمید سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر خالد حمید اس تقریب کی نگرانی کر رہے تھے جو کالج میں نئے آنے والے طلبہ کو خوش آمدید کہنے کے لیے 21 مارچ کو منعقد کی جانی تھی۔

پولیس ذرائع نے ڈیلی اردو کو بتایا تھا کہ طالب علم خطیب حسین اس تقریب کا مخالف تھا کیونکہ اس کے مطابق طلبا اور طالبات کی مخلوط محفل ‘غیر اسلامی’ تھی۔

پولیس نے کہا کہ پروفیسر سے تلخ کلامی کے بعد خطیب حسین نے خالد حمید کے سر اور پیٹ پر چھری سے وار کیا جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔

بعد ازاں پروفیسر کو بہاولپور کے وِکٹوریا ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے

واضح رہے کہ پاکستان میں اپریل 2017 میں خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو جامعہ کے طلبہ نے ان پر توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا۔

اس واقعے کے کچھ ہی عرصے بعد چارسدہ میں اسلامیہ پبلک کالج کے ایک طالب علم نے اپنے پرنسپل پر مبینہ طور پر توہین مذہب کا الزام لگا کر انہیں قتل کر دیا تھا۔

جبکہ میں پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں 2016 میں پندرہ سالہ لڑکے نے اس وقت اپنا ہاتھ کاٹ دیا جب انہیں لگا کہ انھوں نے توہین رسالت کی ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں