148

خیبر پختونخوا: سپیشل پولیس فورس کے اہلکار کرمنلز کا نیٹ ورک چلانے لگا، سنسنی خیز انکشافات

پشاور (ڈیلی اردو) صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبہ بھرمیں دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں بھرتی کئے گئے سپیشل پولیس فورس (ایس پی اوز) کے اہلکار محکمہ کیلئے درد سر بن گئے بغیر تربیت کے بھرتی کئے گئے ایس پی اوز کا کرپشن، بلیک میلنگ، جرائم پیشہ افراد کرمنلز کا نیٹ ورک چلانے کی وجہ سے محکمہ کی بدنامی کا سبب بننے کا انکشاف ہوا ہے۔ جس کے باعث ان کیلئے نہ صرف ایس او پی بنانے بلکہ ریکارڈ کا بھی ازسر نو چھان بین کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ابتدائی طور پر مرتب شدہ ایس او پی کے مطابق آئندہ کسی بھی ایس پی او سے آپریشن ڈیوٹی، موبائل رائیڈر ، سرچ آپریشن اور دیگر فیلڈ ڈیوٹی کے بجائے صرف گاردات کی ڈیوٹی لی جائے گی جبکہ ان کے یونیفارم پر ’’ایس پی او‘‘ بیج بھی لگایا جائے گا۔

واضح رہے کہ سال 2009 کے دوران جب پشاور سمیت صوبہ بھر میں دہشت گردی عروج پر تھی تو اس دوران حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر بغیر تربیت دیئے 10ہزار سے زائد افراد کو محکمہ پولیس میں کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا تھا جنہیں بعد ازاں سپیشل پولیس فورس (ایس پی او) کا نام دیا گیا، ان اہلکاروں نے اس وقت تو ریگولر پولیس کے شانہ بشانہ ڈیوٹی انجام دی تاہم تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ان میں بیشتر اہلکاروں نے پولیس وردی کا غلط استعمال شروع کردیا اور وردی کی آڑ میں نہ صرف شہریوں سے رشوت لینے لگے بلکہ دیگر جرائم پیشہ افراد اور کرمنلز کا نیٹ ورک چلانے لگے اور پشاور میں حال ہی میں چند ایسی ویڈیوز منظر عام پر آئی جن میں پولیس اہلکاروں کو شہریوں اور تاجروں سے رشوت لیتے ہوئے دکھایا گیا۔

جن کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ تمام ایس پی اوز تھے، پولیس رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران رشوت ستانی اور اختیارات سے تجاوز کرنے پر 30 سے زائد ایس پی اوز کو نوکری سے فارغ کیا جاچکا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایس پی اوز میں مزید بھی ایسے اہلکار موجود ہیں جو محکمہ پولیس کیلئے بدنامی کا سبب بن رہے ہیں جن کیلئے محکمہ نے ایس او پی بنا دیا ہے جس کے مطابق اِن سے آپریشن اور فیلڈ کے بجائے صرف گاردات کی ڈیوٹی لی جائے گی کیونکہ ان میں سے اکثر اہلکاروں کے جرائم پیشہ افراد سے روابط ہوتے ہیں اور سرچ آپریشن سے قبل ہی یہ اْن کو اطلاع کردیتے ہیں جس کے باعث سرچ آپریشن بغیر کامیابی حاصل کئے اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پولیس حکام نے تمام ایس پی او کے ریکارڈ کا از سر نو چھان بین کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں