198

گھوٹکی کی نومسلم بہنوں کے بالغ ہونے کی تصدیق

اسلام آباد (ڈیلی اردو) گھوٹکی کی دو نو مسلم لڑکیوں کی میڈیکل رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش کردی گئی ہے، رپورٹ کے مطابق لڑکیوں کی عمریں ساڑھے 19 سال اور 18 سال ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں گھوٹکی کی دو نو مسلم لڑکیوں کی حفاظت سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر لڑکیوں کی عمر کے تعین کے لیے پمز کی میڈیکل رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی،میڈیکل رپورٹ کے مطابق نو مسلم آسیہ کی عمر ساڑھے 19 سال جب کہ نو مسلم لڑکی نادیہ کی عمر 18 سال ہے جب کہ عمر کے مزید تعین کے لیے ڈینیل اور کلینیکل چیک اپ کرانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔جس پر جسٹس اطہر من اللہ نومسلم بہنوں کے کیس میں انکوائری کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے انکوائری کمیٹی میں مفتی تقی عثمانی کو شامل کرنے سے متعلق درخواستگزار کے وکلاء کی استدعا منظور کی، اس کے علاوہ انکوائری کمیٹی میں شیریں مزاری، خاور رحمان اور ڈاکٹر مہدی حسن شامل ہوں گے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ ایک رپورٹ مجھے بھی موصول ہوئی جسے میں سامنے نہیں لاؤں گا، کیونکہ عدالت جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتی، ایشو یہ ہے کہ زبردستی تو اسلام قبول نہیں کرایاگیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ معاملہ بہت حساس نوعیت کا ہے، ہائیکورٹ اس معاملے کی مانیٹرنگ خود کریگی،اس طرح کا کوئی وے فارورڈ ہو کہ اس پر کوئی انگلی نہ اٹھاسکے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقلیتوں کے حوالے سے فرمودات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل ڈہرکی کے نواحی گاؤں حافظ سلیمان کے رہائشی ہری لعل مینگھواڑ کی دو بیٹیاں روینا اور رینا نے گھر سے فرار ہوگئی تھیں جبکہ لڑکیوں کے والد نے دونوں کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کا الزام عائد کیا تھا بعد ازاں دونوں لڑکیوں کی اسلام قبول کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔

بعد ازاں گھوٹکی سے مبینہ لاپتہ بہنوں اور ان کے شوہروں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی ،جس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ تئیس مارچ 2019 کو خان پور بار کے سامنے دونوں لڑکیوں نے اسلام قبول کرنے کا باقاعدہ اعتراف کیا،اسلام قبول کرنے کے بعد رینا کا نام نادیہ جبکہ روینا کا نام آسیہ رکھا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ لڑکیوں نے اسلام زور زبردستی قبول نہیں کیا بلکہ وہ عرصہ دراز سے اسلامی تعلیمات سے متاثر تھیں، مگر جان سے مارے جانے کے خوف کے باعث دونوں لڑکیوں نے اسلام قبول کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا۔

درخواست میں وزارت داخلہ، وزیراعلی سندھ ،آئی جی پولیس پنجاب، سندھ اوراسلام آباد اور رمیش کمار کو فریق بنایاگیا ہے اور استدعا کی گئی ہے کہ غلط پروپیگنڈے کے باعث دونوں بہنوں اور ان کے شوہروں کی جان کو خطرات ہیں،لہذا اسلام آباد ہائی کورٹ دونوں بہنوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکرٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 11 اپریل تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں