بھارت، پاکستان کے کس شہر پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، اہم انکشافات سامنے آگئے

سرینگر (ڈیلی اردو) مقبوضہ کشمیر میں سرینگرجموں نیشنل ہائی وے کو سویلین افراد کی نقل و حرکت کیلیے بند کرنے کے احکامات پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے.

دہلی اور مقبوضہ کشمیرکی انتظامیہ کی طرف سے جاری نوٹیفیکیشن میں بتایا گیا تھا کہ شاہراہ پر سیکورٹی فورسز کی وسیع پیمانے پر نقل و حمل اور سیکورٹی فورسز کے کانوائے پر کسی بھی ممکنہ حملے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے31 مئی تک ہر ہفتے کی اتوار اور بدھ کو صبح چار بجے سے شام پانچ بجے کے دوران کسی بھی سویلین ٹریفک کو چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ پابندی بارہمولہ سے براستہ سرینگر، قاضی گنڈ، جواہر ٹنل، بانہال، رام بن اور اودھمپور تک عائد رہے گی۔

قابض انتظامیہ نے مزید فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اگر مقامی ٹریفک کو چلانا پڑے تو مقامی انتظامیہ اور پولیس اس سلسلے میں ضروری لوازمات پورے کرے گی جیسے کرفیو کے دوران کیا جاتا ہے ۔ یہ پابندیاں 31 مئی 2019 تک نافذ العمل رہیں گی ۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھنے پلوامہ حملے کے بعد کشمیر کا دورہ کر کے یہ اعلان کیا تھا کہ فورسز کے کانوائے کی نقل و حمل کے دوران سویلین ٹریفک کو چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں