242

جنوبی وزیرستان میں ملیریا اور لیشمینیا نے وبائی شکل اختیار کرلی

وانا (دین محمد وزیر) جنوبی وزیرستان میں ملیریا، لشمینا سمیت دیگر امراض بے قابو، لشمینیا مچھر کے کاٹنے سے سینکڑوں افراد شدید متاثر۔ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے مچھر مار سپر ے کے کروڑوں روپے خردبردکی نذر ہو گئے۔ہیلتھ آفیسر جنوبی وزیرستان اپنے دفتر میں ڈیوٹی سرانجام دینے کے بجائے پشاور کی رنگینوں میں غائب

تفصیلات کے مطابق جنوبی وزیرستان میں ملیریا، لشمینا سمیت دیگر امراض بے قابو ہو گیا۔ جنوبی وزیرستان میں لشمینیا مچھر کے کاٹنے سے سینکڑوں افراد شدید متاثر ہوگئے ملیریا، لشمینا سمیت دیگر امراض کیلئے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے مچھر مار سپر ے کے کروڑوں روپے خرد بردکی نذر ،ہیلتھ آفیسر جنوبی وزیرستان اپنے دفتر میں ڈیوٹی سرانجام دینے کے بجائے پشاور کی رنگینوں میں غائب ہیں۔

پچھلے کئی ماہ سے جنوبی وزیرستان کے علاقہ کوٹکائی، بدر، مکین، کانیگرم، کڑامہ، سراروغہ شنکئی، شکتوئی، شوال سمیت دیگر علاقوں میں لشمینیا مچھر کے کاٹنے سے متعدد افراد متاثر ہوگئے جبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جنوبی وزیرستان کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے متاثرہ افراد بے یار ومدد گار کسی مسیحا کے منتظر ہیں علاقہ میں مچھر مار اسپرے نہ ہونے کے باعث لشمینیا مرض کے ساتھ ساتھ ملیریا ، ٹائیفائیڈ جیسے موضی امراض کا شکار ہوکر جاں بحق ہوچکے ہیں فوگ اسپرے کی مدد میں کروڑوں روپے کی خطیر رقم کو کاغذی کارروائی تک محدود کرکے کرپشن کی نظر کردیاگیا ۔

قبائلی رہنما ملک اے ڈی محسود کے مطابق ڈی ایچ او جنوبی وزیر ستان کی نااہلی کی وجہ سے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں اورموصوف علاقہ کادورہ کرنے کے بجائے پشاور کی رنگینوں میں غائب ہوکر سیر وتفریح کے مزے لوٹ رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہیلتھ ڈائریکٹریٹ فاٹا کی جانب سے لشمینیا مرض کے علاج کیلئے محکمہ صحت جنوبی وزیر ستان کو فراہم کردہ تین سو گلوکینٹین انجیکشن منظور نذر افراد کی نظر کردی گئیں لشمینیا ، ملیریا سمیت دیگر موضی امراض کی اودیات ناپید ہوچکی ہیں انکا کہناتھا کہ آپریشن زدہ قبائلی عوام بازار سے مہنگے داموں ادویات خریدنے پر مجبور ہوچکے ہیں جبکہ بیشر لوگ مہنگی ادویات خریدنے کی سکت نہیں رکھتے

انہوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا، صوبائی وزیر صحت سمیت دیگر تحقیقاتی اداروں سے فوگ اسپرے اور ادویات کی مد میں خرد برد کی تحقیقات سمیت جلد مچھر مار اسپرے کرنے کا مطالبہ کیاہے تاکہ جنوبی وزیرستان میں لشمینیا سمیت دیگر امراض کا خاتمہ ہوسکے انہوں نے کہا کہ بصورت دیگر صوبائی وزیرصحت کی سر د مہری کے خلاف 10 اپریل کوپولیٹیکل کمپاؤنڈ میں طلب کردہ گرینڈ جرگہ میں آگے کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں