236

شمالی وزیرستان میں دھماکا، باپ بیٹی زخمی

میران شاہ (ڈیلی اردو) خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے تحصیل دتہ خیل میں بارودی سرنگ کے دھماکے کے نتیجے میں باپ اور بیٹی زخمی ہوگئے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق خیر محمد اور اسکی بیٹی آج ڈگری گاؤں کے قریب پہاڑی میں خشک لکڑیاں جمع کر رہے تھے کہ اس دوران ان پر پہلے سے نصب شدہ بارودی سرنگ پھٹ گیا۔

دھماکے کے نتیجے میں نتیجے میں خیر محمد اور اس کی بیٹی شدید زخمی ہوگئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق زخمی باپ بیٹی کو علاج کیلئے ڈی ایچ کیو اسپتال میران شاہ منتقل کردیا گیا ہے۔ بعد ازاں دونوں زخمیوں کو مزید علاج کیلیے ڈی ایچ کیو اسپتال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں اکثر بارودی سرنگوں کے دھماکے ہوتے رہتے ہیں جس میں اب تک کئی لوگ جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں۔

28 مارچ 2019 کو شمالی وزیرستان کے تحصیل دوسلی میں بم دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا تھا۔

اس کے علاوہ 24 مارچ کو بھی خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ کے دھماکہ میں باپ اور بیٹی شدید زخمی ہوگئے تھے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحصیل بویہ کےعلاقہ احمد خیل میں گل داللہ اپنی 6 سالہ بیٹی سلمیٰ کے ہمراہ جارہا تھا کہ راستہ میں نورا منزا پوسٹ کے قریب پہلے سے سڑک کنارے نصب بارودی مواد زوردار دھماکہ سے پھٹ گیا جس کے نتیجہ میں دونوں باپ بیٹی زخمی ہوگئے۔

جنوبی وزیرستان میں پاک فوج نے 2009 میں کالعدم تحریک طالبان کے خلاف آپریشن شروع کیا جس کے باعث 10 لاکھ کے لگ بھگ افراد بے گھر ہوکر شہری علاقوں میں منتقل ہوئے اور خیمہ بستوں میں آباد ہوگئے۔

بعد ازاں 2015 میں پاک فوج کی جانب سے علاقہ کلیئر قرار دیکر متاثرین کی واپسی کا عمل شروع ہوا تاہم علاقے میں بچھائے گئے لینڈ مائنز مقامی باشندوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوئے۔

اس بارے میں سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں تاہم ایک اندازے کے مطابق جنوبی وزیرستان میں 2015 سے اب تک 20 افراد ان بارودی سرنگوں کی زد میں آکر جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 100 سے زائد ہے۔ جن میں بعض افراد کے ہاتھ اور ہاؤں کٹ گئے جبکہ متعدد افراد بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔

مقامی سماجی کارکنان اور قبائلی عمائدین مسلسل ان لینڈ مائنز کی صفائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ جنوبی وزیرستان کا 90 فیصد علاقہ کلیئر کردیا گیا ہے اور مکمل صفائی کے لیے کام جاری ہے۔ ماضی قریب میں متعدد سیکیورٹی اہلکار بھی لینڈ مائنز کی صفائی کے دوران شہید ہوچکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں