205

سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، جنداللہ کا انتہائی مطلوب دہشت گرد گرفتار، خودکش جیکٹ برآمد

کراچی (ڈیلی اردو) انسداد دہشت فورس (سی ٹی ڈی) نے کالعدم تنظیم جنداللہ کے انتہائی مطلوب دہشت گرد اسحاق گل کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے خود کش جیکٹ اور 2 عدد ہینڈ گرنیڈ برآمد کرلیے۔

سی ٹی ڈی سول لائن پولیس کراچی نے کارروائی کرتے ہوئے ریڈبک میں موجود دہشت گرد تنظیم جند اللہ کا انتہائی مطلوب دہشت گرد محمد اسحاق عرف گل کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے تیار خودکش جیکٹس اور 2 عدد ہینڈ گرنیڈ برآمد کرلیے۔

انچارج سی ٹی ڈی راجاعمر خطاب کے مطابق گرفتار دہشت گرد افغانستان سے بلوچستان اور سندھ سے ہوتے ہوئےکراچی پہنچا تھا اور کراچی میں بڑی دہشت گرد کارروائی کے لیے آیا تھا، محمد اسحاق پاپوش کا رہائشی اور لشکر جھنگوی کے امیر عطا الرحمان عرف نعیم کا پڑوسی تھا، گرفتار دہشت گرد محمد اسحاق 2006 میں جنداللہ میں شامل ہوا تھا اور گرفتار دہشت گرد افغانستان سے دہشت گردی کی تربیت حاصل کرچکا ہے۔

راجاعمر خطاب کا کہنا تھا کہ محمد اسحاق راشد منہاس روڈ اور ملیر سعود آباد میں بینک ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ہے، اس نے 2007 میں ڈیفنس کے علاقے سے ایک تاجر اور گرین ٹاؤن ایئر پورٹ کے قریب سے ایک پروفیسر کو تاوان کے لیے اغوا کیا تھا۔ 2008 میں شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلے کے دوران فرار ہوکر افغانستان میں روپوش ہو گیا تھا۔ گرفتار دہشت گرد انتہائی خطرناک مطلوب دہشت گرد ہے، جس سے تفتیش جاری ہے اور مزید بھی انکشافات متوقع ہیں۔

انچارج سی ٹی ڈی کے مطابق 2003 اور2004 میں کالعدم تنظیم القاعدہ کے کمانڈر حمزہ جوفی عرف حاجی ممتاز نے وزیرستان میں کالعدم تنظیم جنداللہ بنیاد رکھی تھی جو 2012 میں افغانستان میں ڈرون حملے کے دوران ہلاک ہوگیا تھا، کالعدم تنظیم جنداللہ کراچی میں مقامی ہوٹل کے باہر بم دھماکے، پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے، پاکستان امریکن کلچر سینٹر کے باہر بم دھماکے، گلستان جوہر پولیس اسٹیشن پر حملے، رینجرز موبائل پر حملے، کور کمانڈر کراچی پر حملے، فنڈز کے لیے بینک ڈکیتیاں اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں، 2009 میں عاشورہ جلوس میں بم دھماکے میں ملوث ہے۔

کالعدم تنظیم جنداللہ کے کچھ دہشت گرد گرفتار ہو کر جیل میں مقید ہیں کچھ دہشت گرد پولیس مقابلوں میں ہلاک ہو چکے ہیں اور کچھ دیشت گرد افغانستان فرار ہو گئے تھے ، عاشورہ بم دھماکے میں گرفتار ملزمان 2011 میں سٹی کورٹ کراچی سے فرارہوئے تھے، ملزم مراد شاہ سٹی کورٹ میں مقابلےمیں ہی مارا گیا تھا جب کہ وزیر شاہ اور شکیب الحسن وزیرستان میں ڈرون حملے میں مارے گئے تھے، گرفتار دہشت گرد وزیرستان میں ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے ساتھ تھا اور وہاں سے فرار ہو گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں