بلوچستان دہشت گردوں کے نشانے پر: دو دھماکوں میں 29 افراد شہید، 61 افراد زخمی

کوئٹہ (ڈیلی اردو) بلوچستان کے علاقے چمن میں زوردار دھماکے سے ایک شخص شہید جبکہ 13 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ دھماکا چمن کے علاقے مال روڈ پر فلسطین چوک پر ہوا۔ بارودی مواد کو ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کی آوازیں دور دور تک سنیں گئیں۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس، امدادی ٹیمیں اور سیکیورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو موقع پر طبی امداد فراہم کر کے ایمبیولینسوں کے ذریعے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے دھماکا خیز مواد کو موٹر سائیکل میں نصب کیا تھا۔ ایف سی کی گاڑی جیسے ہی اس کے پاس سے گزری موٹر سائیکل کو اڑا دیا گیا۔

سیکیورٹی فورسز نے موقع پہنچ کر شواہد اکھٹے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے چمن دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی بلوچستان سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اپنے بیان میں میر ضیا لانگو نے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہونگے۔ چمن دھماکے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان نے قبول کرلی ہے۔

اس سے قبل آج صبح کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں قائم فروٹ مارکیٹ میں ایک خودکش دھماکے کے نتیجے میں 2 بچوں اور ایک ایف سی اہلکار سمیت 20 افراد شہید اور 48 شدید زخمی ہو گئے تھے۔

سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی. ہزارہ برادری نے 8 افراد شہید ہونے پر دھرنا دیدیا۔ وزیراعظم عمران خان نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے زخمیوں‌ کو علاج کی بہترین سہولیات مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے.

بلوچستان کے ضلع لورالائی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران لیویز اہلکاروں پر حملے کے ماسٹرمائنڈ سمیت تحریک طالبان پاکستان کے 4 دہشت گردوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

اس سے قبل 17 مارچ کو ڈیرہ مراد جمالی میں ریل کی پٹڑی پر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں جعفرآباد ایکسپریس کی بوگیاں ٹریک سے اترگئی تھیں جس کے نتیجے میں ماں بیٹی سمیت 4 افراد شہید اور 6 زخمی ہو گئے تھے۔

11 مارچ کو کوئٹہ کے علاقے میاں غنڈی میں پولیس کے محکمے انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی ) کی موبائل کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 4 اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں