216

ہزار گنجی خودکش دھماکا: تحقيقاتی ٹیم کا جائے وقوعہ کی جيوفينسنگ کرانے کا فيصلہ

کوئٹہ (نیوز ڈیسک) بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے حملہ آور کے جسم کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کی ہزارگنجی سبزی منڈی میں تین روز قبل ہونے والا خودکش دھماکا کس نے کیا؟ تحقیقاتی ادارے کھوج میں لگ گئے۔ محکمہ انسدادہشت گردی نے حملہ آورکے اعضا ڈی این اے کیلئے بھیج دیئے جبکہ جائے وقوعہ اور کی جیوفینسگ بھی کی جائے گی۔

خودکش دھماکےکے خلاف کوئٹہ کےمغربی بائی پاس پردھرنا تیسرے روز بھی جاری ہے، جس کے باعث ٹریفک کی روانی معطل ہے۔

گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی شہدا کے لواحقین سے تعزیت کے لیے پہنچے اور فاتحہ خوانی کی۔طاحتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے دہشت گردوں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی، خودکش حملے میں 20 افراد شہید اور 48 زخمی ہوئے تھے۔

ڈی آئی جی بلوچستان کا کہنا تھا دھماکے میں ہزارہ کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ، دھماکا خیز مواد آلوؤں میں رکھا گیا تھا، شہید افراد میں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہے جبکہ 8 شہدا کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے تھا۔

ایک روز قبل دھماکے کا مقدمہ سرکاری مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ دھماکا پلانٹڈ نہیں بلکہ خودکش تھا، جائے وقوعہ سے حملہ آور کے اعضاء قبضے میں لے لیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں