297

نئے وزیر خزانہ سے کسی معجزے کی توقع نہ رکھیں، سابق وزیر خزانہ اسد عمر

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مستعفی وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ اچھا سفر گزرا، اب بھی وزیراعظم اور انکے وژن کو سپورٹ کرنے کو تیار ہوں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سبکدوش وزیر خزانہ نے کہا کہ تمام حالات کے بعد مناسب یہی سمجھا کہ پیدا شدہ حالات کا خود سامنا کروں اور میڈیا کے تمام سوالات کا جواب دوں۔

سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ آج این اے چون اسلام آباد کے ووٹرز کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے ووٹ دیا اور سوشل میڈیا پر مجھے سپورٹ کرنے والے میرے ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

اپنی پریس کانفرنس میں سابق وزیر خارجہ اسد عمر نے پاکستان تحریک انصاف کو خیرباد کہنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں تو اس وقت سے پی ٹی آئی کا حصہ ہوں جب ہماری جماعت کی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہی نہیں تھی،اب پارٹی کو کیوں خیرباد کہوں۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ جب وزیر خزانہ بنا تو اس وقت معیشت جہاں کھڑی تھی وہ تاریخ کے خطرناک ترین لمحات تھے، مگر ہم نے جانفشانی اور دل جمعی کے ساتھ کام کیا، اور آئی ایم ایف سے اپنی مرضی کا پیکج حاصل کیا۔

مستعفی وزیر خزانہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وفاقی کابینہ میں مزید تبدیلیاں آج رات یا کل تک ہوں گی اور وزیراعظم جو بھی تبدیلیاں کرنا چاہتے ہیں انکا اعلان ہوجائے گا۔نیا وزیر خزانہ وزیر اعظم منتخب کریں گے

اسد عمر کا کہنا تھا کہ جب تک ہم معیشت کی بنیادی چیزوں کو درست نہیں کریں گے تو معاشی ترقی نہیں ہو گی، ہم نے ابھی تک چالیس سال پرانے طریقہ کار کو اپنا رکھا ہے تو ایسے میں نتیجہ کیسے آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بہت بہتر شرائط پر معاہدہ ہوا ہے، آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کے قرضہ کا اثرات پڑیں گے۔، اب جو شخص آئے گا وہ آئی ایم ایف پلان پر عمل کرے گا۔

تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ آئندہ کا بجٹ بہت مشکل ہو گا اور حکومت کو انتہائی مشکل فیصلے کرنے ہوں گے،نئے وزیر خزانہ سے کوئی یہ امید نہ رکھے کہ تین مہینے میں بہتری آئی گی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے آج بھی یقین ہے کہ نیا پاکستان ضرور بنے گا اور عمران خان ہی قیادت کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں