سانحہ اورماڑہ: شہدا میں 10جوانوں کا تعلق پاک نیوی، 3 کا فضائیہ،1 کا کوسٹ گارڈز سے تھا: وزیرخارجہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بزئی ٹاپ واقعہ کے شہدا میں 10 جوانوں کا تعلق پاک نیوی، 3 کا پاک فضائیہ، ایک کا کوسٹ گارڈز سے تھا۔

بلوچ دہشتگرد تنظیم بی آر آئی اے نے سانحے کی ذمے داری قبول کی ہے، بی آر آئی اے کے ٹریننگ ،لاجسٹکس کیمپ ایران کی سرحد کے پار واقع ہیں، بی آر اے کے کیمپس کی نشاندہی بھی کردی ہے ایران کاروائی کرے۔

اس واقعہ میں بھارت کے ملوث ہونے کو نظرانداز نہیں کر سکتے، پاکستان نے مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کیلئے 6 اقدامات کیے ہیں، افغانستان کی طرح ایران کی سرحد پر بھی باڑ لگانے کا فیصلہ کیا ہے ،بلوچستان میں سوچی سمجھی سازش کے تحت دراندازی کی جاتی ہے۔

پاکستان کی خواہش اور پالیسی ہے چاروں پڑوسیوں سے تعلقات اچھے ہوں،بھارت الیکشن میں جو جماعت بھی حکومت میں آئے گی مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بزئی ٹاپ واقعہ میں لوگوں کو شناخت کر کے قتل کیا گیا، شہداء میں 10 پاک بحریہ، 3 پاک فضائیہ اور ایک شہید کا تعلق کوسٹ گارڈز سے تھا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پوری قوم اس واقعہ پر حقائق جاننا چاہتی ہے، اس واقعہ پر ہمیں تکلیف ہے کہ ہمارے سپاہیوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا، بی آر اے کے نام سے ایک اتحاد سامنے آیا ہے جس میں کئی بلوچ دہشت گرد تنظیمیں حصہ دار ہیں جنہوں نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے، دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور کی وردی پہن رکھی تھی، بی آر اے کے ٹریننگ کیمپس ایران کی سرحد کے اندر واقعہ ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تصدیق کے بعد شواہد ایرانی حکام کے حوالے کر دیئے ہیں، ایران کو کیمپس کی جگہ کا بھی بتایا ہے توقع کرتے ہیں کہ ایران ان شواہد پر ایکشن لے گا۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ افغان بھائیوں سے بھی ایکشن کی توقع کرتے ہیں کیونکہ بی آر اے کی قیادت کی افغانستان میں بھی نشاندہی ہوئی ہے، ہم نیک نیتی سے افغانستان میں امن کےلئے کر دار ادا کر رہے ہیں اور افغانستان سے بھی اس کی امید کرتے ہیں، پاکستانی قوم کے جذبات ایرانی سفیر کے سامنے رکھے ہیں جس پر انہوں نے کاروائی کی یقین دہانی کرائی ہے، اس بارڈر کی حساسیت کو سامنے رکھتے ہوئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔

وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک نئی سدرن کمانڈ تشکیل دی ہے جو فوری ایکشن لے گی، ایک نئی فرنٹیئر کور بنائی ہے بارڈر پر کاروائیاں روکنے کےلئے، طے کیا ہے کہ بارڈر پرامن کےلئے جوائنٹ بارڈر سینٹرز بنائیں گے، فیصلہ کیا کہ اپنے بارڈر پر باڑ لگائیں گے جس کا آغاز کیا جا چکا ہے

انہوں نے کہا کہ ایران میں جب بھی کوئی واقعہ ہوا پاکستان نے ایران کو مایوس نہیں کیا، اب ایران سے بھی ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہیں تا کہ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا سکیں، ایسے عناصر ہیں جو پاک ایران تعلقات میں دخل اندازی کرتے رہتے ہیں، پاک ایران تعلقات چاہتے ہیں کہ بہترین ہوں، چاروں ہمسائیوں کے ساتھ مثالی تعلقات کی خواہش ہے تا کہ اپنے مسائل پر پوری توجہ دے سکیں، بلوچستان میں سوچی سمجھی سازش کے تحت دراندازی کی جاتی ہے اور پاکستان میں عدم استحکام کی صورتحال پیش کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ اس واقعہ میں بھارت کے ملوث ہونے کو نظرانداز نہیں کر سکتے، وزیراعظم کا دورہ ایران ملتوی نہیں ہو گا، بھارت الیکشن میں جو جماعت بھی حکومت میں آئے گی اس کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کرنے کے خواہشمند ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں