201

اورماڑہ میں سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج

کوئٹہ (ڈیلی اردو) بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں کوسٹل ہائی وے پر 14 اہلکاروں کو شہید کرنے کے واقعے کا مقدمہ تین روز بعد لیویز تھانہ گوادر میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا۔

محکمہ داخلہ کے مطابق مقدمہ تحصیلدار اورماڑہ کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں قتل ،اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات درج کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ بزئی ٹاپ واقعہ میں لوگوں کو شناخت کر کے قتل کیا گیا، شہداء میں 10 پاک بحریہ، 3 پاک فضائیہ اور ایک شہید کا تعلق کوسٹ گارڈز سے تھا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پوری قوم اس واقعہ پر حقائق جاننا چاہتی ہے، اس واقعہ پر ہمیں تکلیف ہے کہ ہمارے سپاہیوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا، بی آر اے کے نام سے ایک اتحاد سامنے آیا ہے جس میں کئی بلوچ دہشت گرد تنظیمیں حصہ دار ہیں جنہوں نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے، دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور کی وردی پہن رکھی تھی، بی آر اے کے ٹریننگ کیمپس ایران کی سرحد کے اندر واقعہ ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کی صبح کوسٹل ہائی وے پردہشت گردوں کی جانب سے 14 سیکیورٹی اہلکاروں کو بسوں سے اتار کر شہید کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

حکام کی جانب سے دہشت گردی کے واقعے کی تفتیش سی ٹی ڈی بلوچستان کے سپرد کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں