سندھ: بدین میں ہندو کمیونٹی کے مندر میں توڑ پھوڑ، مشتبہ شخص گرفتار

کراچی (ڈیلی اردو/بی بی سی) صوبہ سندھ کے ضلع بدین میں ہندو کمیونٹی کے ایک مندر میں توڑ پھوڑ کے الزام میں مقامی پولیس نے مقدمہ درج کرکے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔

مندر میں توڑ پھوڑ کا واقعہ سنیچر کی صبح ضلع بدین کے شہر کڑیو گھنور میں پیش آیا ہے۔

کڑیو گھنور میں ہندؤں کی کولھی، مینگھواڑ، گواریا اور کاریا کمیونٹی کے لوگ رہتے ہیں اور راما پیر مندر ان کا مشترکہ مندر ہے۔

مقامی پرائمری سکول کے استاد منو لنجار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مندر چندے سے بنایا گیا ہے جس کے لیے انھوں نے فیس بک پر پوسٹ لگائی تھی جس کے بعد لوگوں نے ان کی مالی مدد کی اور تقریبا ڈیڑہ سال قبل اس کی تعمیر مکمل ہوئی تھی۔

انھیں مندر کی مہاراج نے ٹیلیفون کرکے اس بے حرمتی کی اطلاع دی جس کے بعد انھوں نے دوستوں کو جاکر تصدیق کرنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس اور مقامی لوگوں نے مدد کی اور ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا۔

اس واقعے کی ایف آئی آر میں مدعی اشوک کمار نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان سمیت تین لوگ اس مندر کی نگران ہیں۔ ان کے مطابق وہ سب سنیچر کو مندر کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے کہ صبح دس بجے اسماعیل شیدی نامی شخص آیا جو اس سے قبل بھی یہاں آتا جاتا رہا ہے کچھ دیر کے بعد مندر سے آواز آئی، ان تینوں نے جاکر دیکھا تو اسماعیل مذہبی مورتی کو نیچے گرا کر اس پر سریا کے واروں سے توڑ پھوڑ کر رہا تھا۔

جس پر انھوں نے آواز لگائی تو وہ وہاں سے فرار ہوگیا۔

اشوک کمار کا موقف ہے کہ اسماعیل شیدی نے ان کی مذہبی مورتی کو نقصان پہنچا کر اس کی بے حرمتی کی ہے، اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

کڑیو گھنور پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 اے کے تحت مقدمے درج کرکے مشتبہ ملزم اسماعیل شیدی کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایس ایچ او اصغر سٹھیو کا کہنا ہے کہ ملزم اپنے بیانات تبدیل کر رہا ہے لیکن اس کا کسی شدت پسند گروہ یا تنظیم سے تعلق نہیں ہے اس کو عدالت میں پیش کرکے ریمانڈ لینے کے بعد تفتیش کی جائے گی۔

رام پیر جودھپور سے ڈیڑھ سو کلو میٹر دور رانو جے کے شہر میں پانچ سو سال قبل پیدا ہوئے تھے اور وہاں ہی ان کی قبر ہے۔

ان کے پیروکاروں میں سناتن دھرم کی نچلی ذات مینگھواڑ، کولھی، بھیل سنیاسی، جوگی، باگڑی، کھتری اور لوہار شامل ہیں جو بھارت کے ساتھ پاکستان میں بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

سندھ میں حیدرآباد سے 30 کلومیٹر دور ٹنڈوالہ یار میں واقع راما پیر کا ایک بڑا مندر واقع ہے۔ مندر کے بارے میں وہاں کے مذہبی پیشوا ایشور داس بتاتے ہیں کہ ایک سو سال قبل کھتری قوم کا ایک شخص راما پیر کی سمادھی پر اولاد کی مراد لے کر گیا۔

وہاں انھیں ایک غیبی آواز آئی کہ آپ اپنے شہر ٹنڈوالہ یار میں مندر بنائیں کیونکہ یاتریوں کو یہاں آنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ وہاں بھی لوگوں کی من کی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔ وہ کھتری وہاں سے دیے میں جوت لیکر یہاں آیا اور یہاں مندر بنایا۔ وہ جوت، جسے اکھنڈ جوت کہا جاتا ہے آج بھی روشن ہے۔

ماہ بڈو کی نو دس اور گیارہ تاریخ کو ہر سال یہاں میلہ منعقد ہوتا ہے۔

یاتری جتھوں کی صورت میں ٹنڈوالہ یار شہر کے باہر جمع ہوتے ہیں۔ پیروکاروں کے ہاتھوں میں ایک سفید جھنڈا ہوتا ہے جس پر گلابی رنگ میں پاؤں کے نشانات بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس جھنڈے کو دھجا کہا جاتا جو رام پیر کی اپنے پیروکاروں کے لیے چھوڑی ہوئی چوبیس ہدایات میں سے ایک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں