ڈیرہ اسماعیل خان میں استقبال محرم الحرام ’’پنج رایا‘‘ رکھ دیا گیا

ڈی آئی خان (سید توقیر حسین زیدی) صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں استقبال محرم الحرام (پنج رایا) رکھ دیا گیا ڈیرہ اسماعیل خان میں محرم الحرام کی آمد سے 4 دن قبل پنج راتا رکھنے کی صدیوں پرانی روایت آج بھی زندہ و جاوید ہے۔ یہ پنج راتا کیا ہے اور یہ محرم الحرام کی آمد سے 4 دن قبل کس طرح رکھا جاتا ہے۔ صدیوں پرانی اس قدیم روایت سے متعلق توقیر زیدی کی خصوصی رپورٹ

پنج راتا سرائیکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی 5 راتیں ہیں۔ پنج راتا دراصل محرم کی آمد سے قبل سوگواری کا اعلان ہے۔ پاکستان اور آس پاس کے ممالک میں بھی محرم الحرام کی آمد سے 4 دن قبل پنج راتا کی روایت زمانہ قدیم سے چلی آ رہی ہے جو ایک لحاظ سے محرم الحرام کی آمد کا اعلان بھی ہے اور اس سے جڑی عقیدت و احترام کا اظہار بھی۔

بزرگوں کے مطابق بادشاہ تیمور لنگ نے پنج راتے کی راویت باقاعدہ طور پر شروع کی تھی اور زمانہ قدیم میں بھی محرم الحرام کی آمد سے 4 دن (یعنی 5 راتیں) قبل 25 ذی الحج سے لوگ محرم الحرام کے مہینے کے تقدس و حرمت کو مدنظر رکھتے ہوئے نقارہ و طبل بجا کر پنج راتا کا اہتمام کرتے تھے اور اپنی تمام خوشیوں، شادی بیاہ کی تقریبات کو بطور احترام محرم الحرام ختم کر دیتے تھے۔

25 ذی الحج کو نماز مغربین سے کچھ دیر پہلے امام بارگاہوں اور عزاداری سید الشہداء علیہ اسلام سے منسوب مخصوص مقامات پر طبل و نقارہ بجا کر محرم کی آمد کا اعلان کیا جاتا تھا۔ ڈھلتی شام کے سناٹے میں نقاروں کی آواز کے ساتھ ہی پورا علاقہ نواسہ رسولﷺ، اولاد بتولؑ کے غم میں سوگوار ہو جاتا تھا۔

دیگر مذاہب و مسالک کے لوگ بھی محرم الحرام کی نسب سے نقارے کی صدا سنتے ہی اپنی تمام خوشیوں، شادی بیاہ کے پروگرام ترک کر دیتے تھے۔

برصغیر پاک و ہند میں پنج راتے کی روایت بہت قدیم ہے جس کا مرکز لکھنو ہے۔ وقت کی جدت کے ساتھ ساتھ یہ قدیم روایت دم توڑتی جا رہی ہے مگر انڈیا، افغانستان اور پاکستان کے کچھ مخصوص علاقوں میں پنج راتا کی روایت آج بھی برقرار ہے اور اس کو زندہ و جاوید رکھا ہوا ہے۔

انڈیا کے شہر لکھنو اور افغانستان میں آج بھی کہیں کہیں نقارہ بجا کر پنج راتا کے طور پر محرم کی آمد کا اعلان کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں یہ روایت صرف تین شہروں صوبہ پنجاب کے شہر بھکر، دریا خان اور خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان و مضافات میں اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔

ان علاقوں میں آج بھی پنج راتا کے سلسلے میں امام بارگاہوں میں نقارے بجائے جاتے ہیں۔ یہ نقارے یکم محرم الحرام سے 4 دن قبل نماز مغربین سے قبل روزانہ کی بنیاد پر بجائے جاتے ہیں جبکہ یکم محرم الحرام سے امام بارگاہوں میں باقاعدہ مجالس عزاء کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں