امریکا میں 3 شیعہ پاکستانیوں کا مبینہ قاتل گرفتار

واشنگٹن (ڈیلی اردو/بی بی سی) امریکی ریاست نیو میکسیکو کے شہر ایلبقرقی میں پولیس نے کہا کہ انھوں نے چار مسلمانوں کے قتل کے ’مرکزی ملزم‘ کو گرفتار کر لیا ہے۔

سوموار کو 51 برس کے محمد سعید کو حراست میں لیا گیا تھا اور ان پر دو افراد کے قتل کا الزام ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے گھر سے آتشیں اسلحہ بھی برآمد ہُوا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش کاروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ دیگر دو ہلاکتوں سے بھی اس افغان باشندے کا تعلق معلوم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ یہ اموات گذشتہ نو ماہ کے دوران ہوئیں جبکہ آخری تین ہلاکتیں گذشتہ دو ہفتے میں ہوئیں۔

پولیس چیف ہیرالڈ میڈینا نے منگل کو پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایک گاڑی کا پتا لگایا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اسے ان حملوں میں استعمال کیا گیا اور اس گاڑی کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ قتل کی وجہ ذاتی تنازعات ہو سکتے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ مشتبہ شخص کئی برس قبل افغانستان سے امریکہ آیا تھا۔

متاثرین میں سے تین پاکستانی نژاد مسلمان تھے اور وہ ایک ہی مسجد میں نماز پڑھتے تھے۔ افسران نے کہا کہ ان پر ’گھات لگا کر حملہ کیا گیا اور گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جبکہ چوتھا شخص، محمد احمدی، جو افغان نژاد تھا، گذشتہ نومبر میں مارا گیا تھا۔‘

قتل کے ان چار واقعات میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ نعیم حسین کو جمعے کی شب ہلاک کیا گیا تھا۔ جب کہ اس سے قبل 27 سالہ محمد افضل حسین اور 41 سالہ آفتاب حسین کو گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا گیاتھا۔ ان دونوں کا تعلق بھی پاکستان سے تھا اور وہ اسلامی مرکز کی اسی مسجد کے رکن تھے۔

اس سلسلے کا پہلا قتل گزشتہ سال نومبر میں ہوا تھا جس میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے 62 سالہ محمد احمدی کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

نیو میکسیکو میں سنی اور شیعہ دونوں مسلم کمیونیٹیز کے لوگ آباد ہیں۔ ایلبکرکی اسلامک سینٹر کی جنرل سیکریٹری انیلہ آباد کا کہنا ہے کہ نیو میکسیکو کی ان دونوں مسلم کمیونیٹیز کے درمیان گرمجوشی پر مبنی تعلقات ہیں۔

پولیس کریمنل انویسٹیگیشن (فوجداری تفتیش) ڈویژن کے ڈپٹی کمانڈر کائل ہارٹساک نے کہا ہے کہ مشتبہ شخص کو اس کی کار روکنے کے بعد گرفتار کیا گیا اور پولیس کی ٹیم نے اس کے گھر کی تلاشی لی۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے مشتبہ شخص کی گاڑی کی تصویر عوام میں تقسیم کرنے کے صرف دو دن بعد ہی ایک شہری کی اطلاع پر ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

ایک نیوز ریلیز میں پولیس نے کہا کہ محمد سعید کے گھر کی تلاشی کے دوران ’تفتیش کاروں کو ایسے شواہد ملے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجرم کسی حد تک متاثرین سے واقفیت رکھتا تھا اور ہو سکتا ہے کہ ان کا باہمی تنازع اس واردات کی وجہ بنا ہو۔‘

لیکن منگل کی پریس کانفرنس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان خبروں پر تبصرہ نہیں کیا، جن میں کہا گیا تھا کہ مشتبہ شخص ایک سنی مسلمان تھا، جس نے متاثرین کو نشانہ بنایا کیونکہ وہ اپنی بیٹی کی شیعہ مسلمان سے شادی پر ناراض تھا۔

کائل ہارٹساک نے کہا کہ ابھی واضح نہیں کہ آیا یہ (قتل کا) اصل مقصد تھا یا پھر یہ کسی مقصد کا حصہ تھا، یا یہ کسی اور بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس تک ابھی ہم نہیں پہنچ سکے ہیں۔‘

پولیس کے ڈپٹی سی ایم ڈی آر کائل ہارٹساک سے جب پوچھا گیا کہ آیا سید جو ایک سنی مسلمان ہیں وہ اپنی بیٹی کی ایک شیعہ مسلم سے شادی پر برہم تھے؟ اس سوال پر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ قتل کے، ”محرکات کو اب بھی پوری طرح سے تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ یہ سمجھا سکے کہ آخر اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔”

ایلبقرقی کے میئر ٹم کیلر نے ایک بیان میں کہا کہ انھیں امید ہے کہ ’فوری کارروائی بہت سے لوگوں کے لیے تحفظ کے احساس کا باعث بنی ہے جو حالیہ فائرنگ سے خوف کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

پیر کو امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ ’خوفناک ہلاکتوں سے ناراض اور غمزدہ ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ تھا کہ ’ان نفرت انگیز حملوں کی امریکہ میں کوئی گنجائش نہیں۔‘

پولیس نے یہ نہیں کہا کہ یہ حملے نفرت پر مبنی جرائم تھے۔

نیو میکسیکو کی گورنر مشیل لُوجن گریشام کے اس بیان کہ وہ تفتیش کاروں کی مدد کے لیے ایلبقرقی میں قانون نافذ کرنے والے اضافی افسران بھیج رہی ہیں، کے بعد حالیہ دنوں میں مشتبہ شخص کی تلاش کی کوششوں میں تیزی لائی گئی تھی۔

متعدد تنظیموں نے مشتبہ شخص کی گرفتاری اور اس بارے میں معلومات کے لیے اہم انعامات کی پیشکش کی تھی۔

نیو میکسیکو کے اسلامک سینٹر کے ترجمان احمد اسید نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ہلاکتیں شہر کی مسلم کمیونٹی کے لیے خوفناک ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں