ایران کے وزیر داخلہ احمد وحیدی انٹرپول کو کیوں مطلوب ہیں؟

کولمبو (ڈیلی اردو/وی او اے/اے ایف پی) ایرانی صدر ابراہیم رئیسی بدھ کو پاکستان کے سرکاری دورے کے بعدکولمبو پہنچے تھے۔پاکستان میں ان کے وزیر داخلہ بھی ان کےہمراہ تھے تاہم وہ ایرانی وفد کے ساتھ سری لنکا نہیں گئےکیونکہ وہ 1994 کے مہلک بم دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں وہاں مطلوب ہیں۔

وزیر داخلہ احمد وحیدی پر ارجنٹائن نے 1994 میں بیونس آئرس میں یہودی کمیونٹی سینٹر پر اس حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام لگایا تھا جس میں 85 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس سلسلے میں انٹرپول نے ایک ریڈ نوٹس جاری کیاجس میں دنیا بھر کی پولیس ایجنسیوں سے وحیدی کو حراست میں لینے کی درخواست کی گئی تھی اور ارجنٹائن نے پاکستان اور سری لنکا دونوں کو انہیں گرفتار کرنے کو کہا تھا۔

وزیر احمد وحیدی کو کولمبو میں رئیسی کے ساتھ نہیں دیکھا گیا، جو ایران کے تعاون سے بجلی اور آبپاشی کے منصوبے کا افتتاح کرنے سری لنکا پہنچے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ہفتے کے اوائل میں وحیدی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہمراہ اسلام آباد گئے، جہاں انہوں نےاپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کی۔

اگرچہ رئیسی کے سری لنکا میں بھی وفد کے ساتھ شامل رہنے کی توقع تھی،تاہم وحیدی کی اچانک ایران واپسی نے ان قیاس آرائیوں کو جنم دیا کہ ارجنٹائن کی جانب سےدرخواست نے ان کے بین الاقوامی سفر کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

انہوں نے بدھ کو تہران میں کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے ریاست سے منسلک ایرانی خبر رساں اداروں کے ساتھ انٹرویوز میں اپنے پاکستان کے دورے کی تعریف کی۔ دریں اثناء صدر رئیسی سری لنکا پہنچ گئے۔

سری لنکا کی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ وزیر داخلہ کو ایرانی وفد میں شامل نہیں کیا گیا۔

1994 کے اس حملے کا کسی نےدعویٰ نہیں کیا نہ ہی یہ حل ہوسکا ہے، لیکن ارجنٹائن اور اسرائیل کو طویل عرصے سے شبہ ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ نے ایران کی درخواست پر اسے انجام دیاتھا۔

استغاثہ نے اعلیٰ ایرانی حکام پر حملے کا حکم دینے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم تہران نے اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

عدالت نے حزب اللہ کو بھی اس حملے میں ملوث قرار دیا تھا اور AMIA کے خلاف حملے کو ارجنٹائین کی تاریخ کے سب سے مہلک انسانیت کے منافی جرم” سے تعبیر کیا۔

سری لنکا میں ایران کے تعاون سے تیار ہونے والا آبپاشی اور پن بجلی پروجیکٹ

رئیسی کا A340 طیارہ پہلی بار جنوبی سری لنکا کے ایک ہوائی اڈے پر 514 ملین ڈالر مالیت کے اوما اویا آبپاشی اور پن بجلی پروجیکٹ کے قریب اترا۔

سری لنکا نے کہا ہے کہ اسے مارچ 2014 میں شروع کیا جانا تھا لیکن ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں نے اس منصوبے کو ایک دہائی کے لیے موخر کردیا۔

رئیسی نے اوما اویا کے مقام پر ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک نے دوسروں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ علم اور ٹیکنالوجی کا واحد ذریعہ ہیں، لیکن ایرانی ماہرین نے ان صلاحیتوں پر عبور حاصل کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “ہمارے دشمنوں نے ایران کی ترقی اور پیش رفت کی حمایت نہیں کی، لیکن ایرانی عوام اس کے لیے پرعزم تھے۔”

سری لنکا نے 2010 میں ایران کے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ بینک سے 50 ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کے بعد ڈیم کے زیادہ تر منصوبے کیلئے مالی اعانت فراہم کی ہے، جبکہ تعمیراتی کام ایرانی فرم فاراب نےانجام دیا ہے۔

رئیسی اس کے بعد دارالحکومت کولمبو گئے جہاں ان کا خیر مقدم 21 توپوں کی سلامی سے کیا گیا۔

سری لنکا کے صدر رانیل وکرما سنگھے کے ساتھ ان کی بات چیت کے بارے میں صدر کے دفتر نے کہا کہ یہ دورہ “اس اہم بنیادی ڈھانچے کی کوششوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون” کی علامت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں