طالبان کا میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن، چار افغان صحافی گرفتار

پیرس (ڈیلی اردو) افغان میڈیا پر طالبان کے تازہ ترین کریک ڈاؤن میں چار صحافیوں کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ دو ٹی وی چینلز بند کر دیے گئے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (RSF) نے چار ریڈیو صحافیوں کی رہائی اور نجی ملکیت والے دو ’تنقیدی‘ ٹی وی چینلز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے جو کہ افغانستان میں میڈیا کی آزادی پر طالبان کی جانب سے حالیہ پابندیوں میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران شکار ہوئے ہیں۔

تازہ ترین متاثرین میں صوبہ خوست میں ریڈیو کے تین صحافی شامل ہیں جنہیں 22 اپریل کو موسیقی نشر کرنے اور نشریات کے دوران خواتین سامعین کی کالیں وصول کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

6 اپریل کو طالبان کی انٹیلی جنس نے غزنی صوبے میں ایک ریڈیو رپورٹر کو اس کی رپورٹنگ کے سلسلے میں گرفتار کیا۔ اس کا فون ضبط کیا، اس کے مواد کا معائنہ کیا اور 16 اپریل کو دو نجی ٹی وی چینلز نور ٹی وی اور بریا ٹی وی کو ’قومی اور اسلامی اقدار‘ کا احترام نہ کرنے پر بند کردیا گیا۔

آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ یہ تعزیری فیصلے میڈیا پر طالبان کی بےلگام پابندی کی تازہ ترین اقساط ہیں۔ حکام مسلسل صحافیوں کو نشانہ بناتے ہیں، خاص طور پر غیر ملکی میڈیا کےلیے کام کرنے والے رپورٹرز، جن پر طالبان حکومت کو بدنام کرنے کا الزام ہے اور انہیں من مانی حراست اور ہر قسم کی پابندیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے کہا کہ ساتھ ہی، نجی ملکیت والے ٹی وی نیوز چینلز کی ان کی سنسرشپ کا مقصد ایسی کسی بھی رپورٹنگ کو ختم کرنا ہے جو حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

آر ایس ایف نے حراست میں لیے گئے چار ریڈیو صحافیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور حکام سے نور ٹی وی اور بریا ٹی وی چینلز کی معطلی کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں