90

انسانی حقوق پاک بھارت موازنہ اور پروپیگنڈہ بریگیڈ۔۔۔! (انشال راؤ)

اٹلانٹنک چارٹر کی بنا پر اگست 1944 میں واشنگٹن میں برطانوی کامن ویلتھ اور روس کے نمائندوں کی ایک مجلس منعقد ہوئی جس میں اقوام عالم کے ادارے کے قیام کی تجویز پیش کی گئی بالآخر 24 اکتوبر 1945 کو اقوام متحدہ کی تاسیس عمل میں آئی جس کی جنرل اسمبلی نے۔10 دسمبر 1948 کو انسانی حقوق کے چارٹر کی توثیق کی جوکہ30دفعات پر مشتمل ہے جس کی بنیاد انسانی عظمت، قدرو قیمت، مساوات و آزادی اور عالمی امن ہے ۔ ان دفعات کی روشنی میں ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت میں انسانی حقوق کی کیا حالت ہے اور عوام کو کس حد تک حاصل ہیں ۔

دفعہ ۱ ۔ تمام بنی نوع انسان پیدائشی طور پر آزاد ہیں اور سب عظمت و حقو ق میں برابر ہیں ۔

۲ ۔ تمام انسان بلا امتیاز مساوی حقوق اور آزادی کے حقدار ہیں جوکہ چارٹر میں مذکور ہیں ۔

ان دفعات کے تحت بھارت میں انسانیت کی کھلم کھلا تذلیل ہورہی ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود کشمیری آج بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اس کے علاوہ سکھوں کو زبردستی دبایا ہوا ہے ایسا ہی حال ناگا لینڈ، آسام، منی پور ودیگر بہت سے علاقوں کے باسیوں کا ہے اس کے تحت اقوام عالم کو بھارت کے بڑھتے ہوئے ظلم و جبر نظر نہیں آتے اور اقوام متحدہ اپنی ہی قراردادوں پر عمل نہیں کروا سکی جو کہ انسانی حقوق کی علمبردار ہونے پر بد نما داغ ہے ۔ سکھوں کو بھارت مساوی حقوق اور آزادی دینے کے لئے تیار نہیں جبکہ دلتوں سمیت دیگر اقلیتوں کی تو زندگی ہی اجیرن بنا رکھی ہے جبکہ پاکستان میں ناصرف پاکستانی بلکہ غیر قانونی تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو بھی برابری کے حقوق حاصل ہیں اور آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں ۔

۳ ۔ ہر شخص کو زندہ رہنے، ندگی گزارنے اور اپنی شخصیت کی حفاظت کرنے کا حق حاصل ہے ۔

۴ ۔ کسی بھی شخص کو غلام کی حیثیت سے نہیں رکھا جائے گا اور غلاموں کی تجارت ممنوع ہوگی ۔

پاکستان میں افغان پناہ گزین اور دیگر غیر ملکی تارکین وطن کو حاصل آزادی ا س بات کی کھلی دلیل ہے کہ پاکستان ناصرف انسانی حقوق کا احترام کرتا ہے بلکہ عملی طور پر ثابت بھی کرتا ہے جبکہ بھارت میں کشمیری آج بھی غلامانہ زندگی گزار رہے ہیں اور بھارتی ظلم و ستم کا شکار ہیں ایسا ہی حال سکھوں کے ساتھ ہے لاکھوں کی تعداد میں سکھ جلا وطنی پر مجبور ہیں اور بہت سے مقید ہیں جبکہ دلت برادری کے ساتھ بھی انتہائی غیر انسانی اور غلامانہ سلوک روا رکھا ہوا ہے اور اگر کوئی بھارتی ظلم و جبر سے تنگ آکر اپنے تحفظ کی خاطر بندوق اٹھا لے تو اسے دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے ۔ سیکڑوں کی تعداد میں بھارت میں انسانی اسمگلنگ کے واقعات بھی سامنے آچکے ہیں ۔

۵ ۔ کوئی بھی فرد ایذا رسانی، غیر انسانی اور تحقیر آمیز سلوک یا سزا کا ہدف نہ بنایا جائے ۔

کشمیر سمیت پورے بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ انتہائی غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے ۔ ظلم و تشدد کا سلسلہ ریاستی سرپرستی میں آئے روز بڑھتا جارہا ہے اور الٹا مقدمہ بھی متاثرین کے خلاف ہی دائر کردیا جاتا ہے ۔ عقوبت خانوں میں کشمیریوں کے ساتھ تھرڈ ڈگری ٹارچر روا رکھا جاتا ہے اور پاکستانیوں تک کو پتھر مار مار کر شہید کردیا جاتا ہے جب کہ پاکستان میں کلبھوشن جیسے ہزاروں افراد کے قاتل دہشت گرد تک کو فری ٹرائل کا حق دیا گیا اور ابھی نندن کے ساتھ پاکستان کا حسن سلوک ساری دنیا کے سامنے ہے ۔

۶ ۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہر انسان قانون کی نظر میں انسان ہی تسلیم کئے جانے کا مستحق ہے ۔

۷ ۔ قانون کی رو سے سب برابر اور سب مساوی قانون کے مستحق ہیں ۔

۸ ۔ ہر انسان کو دستوری یا قانونی حقوق کی تلفی کی صورت میں عدالتی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے ۔

بھارت میں صرف اونچی ذات والے ہندوءوں کو ہی انسان سمجھا جاتا ہے جب کہ اقلیتوں حتیٰ کہ دلتوں کو بھی غلام سمجھا جاتا ہے ان پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے جاتے ہیں اور معمولی الزام لگا کر قتل کردیا جاتا ہے جس کا کوئی پوچھنے والا نہیں اور عدالت اورحکومت اس پر مجرمانہ خاموش ہیں جب کہ پاکستان میں اقلیتوں کو برابری کے حقوق حاصل ہیں بلکہ ان کی آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو یہ پاکستان کی سب سے بڑی تاجر برادری ہیں ۔ نہ صرف تعلیمی اداروں ، ملازمتوں میں برابری کے حقوق حاصل ہیں بلکہ اسمبلیوں میں بھی برابری کی بنیاد پر نمائندگی حاصل ہے اس کے علاوہ تمام قومیتیں خواہ افغان ہوں ، پنجابی ہوں ، پشتون ہوں ، بلوچ ہوں یاسندھی سب کو برابری کے حقوق حاصل ہیں ۔

۹ ۔ کسی بھی شخص کو غیر منصفانہ طور پر گرفتار، قید یا جلا وطن نہیں کیا جائے گا ۔

۰۱ ۔ ہر شخص کو یہ مساوی حق حاصل ہے کہ اس کے خلاف الزامات کے تصفیہ کے لئے آزادانہ، غیر جانبدارانہ عدلیہ سے رجوع ہو ۔

۱۱ ۔ کوئی بھی شخص اس وقت تک مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک اس کا جرم ثابت نہ ہوجائے ۔

بھارت میں کشمیریوں کو بلا کسی مقدمے کے گرفتار کرلیا جاتا ہے ۔ مسلمان انتہائی خوف و خطر کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں محض گائے ذبیحہ کا جھوٹا الزام لگا کر گرفتار و تشدد تو کجا قتل تک کر دیا جاتا ہے اس کے علاوہ لاکھوں بھارتی ناگرک خواہ سکھ ہوں یا کشمیری دلت ہوں یا تامل ریاستی جبر کی وجہ سے جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ پاکستان میں کلبھوشن جیسے سفاک دہشتگرد تک کو فری اینڈ فیئر ٹرائل کا حق حاصل ہے ۔

۲۱ ۔ کسی بھی شخص کی رازداری کے معاملات اس کے خاندان گھر میں غیر منصفانہ مداخلت نہیں کی جائے گی اور نہ اس کی عظمت و عزت پر حملہ کیا جائے گا ۔

۳۱ ۔ کسی شخص کو اپنے ملک میں دائرہ حدود میں رہنے ،نقل و حرکت کرنے کی مکمل آزادی ہوگی ۔

۴۱ ۔ ہر شخص کو کسی ظلم سے بچنے کی خاطر دوسرے ملک میں پناہ لینے کا اختیار حاصل ہے ۔

۵۱ ۔ حقوق انسانی کی رو سے ہر شخص کو کوئی بھی قومیت اختیار کرنے کا حق حاصل ہے ۔

۶۱ ۔ ہر مردو عورت کو بلا امتیاز،نسل، قومیت، مذہب شادی کرنے اور خاندان آباد کرنے کا حق حاصل ہے ۔

کیا کوئی دلت سوچ سکتا ہے کہ وہ اونچی ذات کے ہندوءوں کی آبادی میں جا کر رہ لے اور شادی وغیرہ تو دور کی بات اگر کوئی ایسی غلطی کرجائے تو ناصرف اس کی خود کی بلکہ اس کے خاندان برادری تک کی زندگی عذاب بنا دی جاتی ہے ۔ کشمیری ستر سال سے استحصالی کا شکار ہیں ۔ سکھ لاکھوں کی تعداد میں دیگر ممالک میں رہنے پر مجبور ہیں اس کے برعکس پاکستان وہ خطہ ہے جہاں لاکھوں کی تعداد میں افغان تحفظ کی خاطر آباد ہیں اور انہیں مکمل تحفظ حاصل ہے ۔ کشمیری مسلمانوں کو بھارت سرکار کشمیر میں زبردستی اقلیت بنانے پر تلی ہوئی ہے لیکن اقوام عالم خاموش ہے ۔

۷۱ ۔ ہر شخص کو انفرادی و اجتماعی حیثیت سے جائدا د کا حق حاصل ہے جبراً کسی شخص کو جائداد کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔

اگر ایسا ہے تو مقبوضہ کشمیر میں جائداد کی خریدو فروخت پر پابندی کیوں ہے اور کشمیریوں کو یہ حق حاصل کیوں نہیں یہاں تک کہ ان کو اپنی ہی جائیدادوں سے محروم رکھا ہوا ہے ۔ اس کے برعکس پاکستان میں تو افغان پناہ گزین تک جائداد رکھنے کا حق رکھتے ہیں ۔

۸۱ ۔ ہر شخص کو خیالات ، مذہب اور ضمیر کی آزادی حاصل ہے ۔

۹۱ ۔ ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے ۔

۰۲ ۔ ہرشخص کو پر امن طور پر اجتماعات، انجمنوں میں شامل ہونے کا اختیار ہے ۔

۱۲ ۔ ہر شخص کو حکومت میں شامل ہونے اور عوامی خدمت کا مساوی حق حاصل ہے ۔

۲۲ ۔ حقوق انسانی کی رو سے ہر شخص کو سماجی تحفظ اور اپنی عظمت و شخصیت کی ترقی کی خاطر معاشی ، سماجی اور تمدنی حقوق حاصل ہیں ۔

نام نہاد سیکولر بھارت میں حالیہ الیکشن ہی مذہبی تقسیم و قومیتی منافرت کی بنیاد پر لڑے گئے ۔ مذہبی آزادی کا یہ حال ہے کہ مسلمانوں کو جبراً جے شری رام بولنے اور گن پوائنٹ پر مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور یہ سب ریاستی سرپرستی میں ہورہا ہے جس کا کھلا ثبوت بھارتی وزیر مذہبی امور کا جاری کردہ پیغام ہے کہ وہ دسمبر2021تک بھارت میں 100فیصد سب کو ہندو بنا ئیں گے اس کے لئے جو کرنا پڑا وہ کریں گے ۔ آزادی اظہار کا یہ حال ہے اگر کوئی شخص پاکستان یا مسلمانوں کے حق میں ایک بیان بھی دے دے یا انتہا پسند ہندو دہشت گردوں پر تنقید کردے تو اسے جان کے لالے پڑ جاتے ہیں سدھو کا بیان ہی دیکھ لیں اور اس پر بھارتی رد عمل ۔ اس کے برعکس پاکستان میں ہر شخص کو کھلی آزادی ہے جو چاہے تنقید کرے حتیٰ کہ موم بتی مافیا تو کھلم کھلا بے بنیاد پروپیگنڈہ تک کرتی پھرتی ہیں ۔

۳۲ ۔ ہر شخص کو اپنی مرضی کا روزگار کرنے کی آزادی ہے ۔ ۴۲ ۔ آرام و آسائش کا حق حاصل ہے ۔ ۵۲ ۔ مناسب معیار زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے ۔

اگر ایسا ہوتا تو مقبوضہ کشمیر کے باسی دنیا میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور نہ ہوتے اور اپنے ہی علاقے میں باعزت روزگار و معیار زندگی سے رہ رہے ہوتے ۔

۶۲ ۔ ہر فرد کو مساوی تعلیمی حقوق حاصل ہیں ۔ ۷۲ ۔ کمیونٹی کے ثقافتی امور اور سائنسی ترقی سے استفادہ کے حقوق ،۸۲ ۔ ہر شخص کو سماجی و بین الاقوامی مقام پانے کا حق ہے ۔ ۹۲ ۔ ہر شخص اپنی کمیونٹی سے متعلق ذمہ داری کی انجام دہی کے لئے شخصی نشونما پاسکتا ہے ۔

بھارت میں تعلیمی یا ثقافتی حقوق فقط وفقط اونچی ذات کے ہندوءوں تک ہی محدود ہیں ۔

۰۳ ۔ حقوق انسانی کے اعلان کی کسی ریاست یا گروہ یا فرد کی جانب سے ایسی تشریح نہ کیا جائے جس کی بدولت انسانی حقوق اور آزادی کو نقصان پہنچے ۔

اس دفعہ کے تحت بھارت کا اقوام متحدہ کی کشمیر میں حق خود ارادیت کی قراردادوں کے منافی کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ بھارت انسانی حقوق کے چارٹر کا کتنا احترام اور پابندی کرتا ہے ۔

بھارتی ظلم و ستم ایک طرف پروپیگنڈہ ایک طرف جبکہ پاکستان میں اقلیتوں سمیت تمام قومیتوں کو برابری کے حقوق حاصل ہیں ساتھ ساتھ ایک معیاری زندگی اور تحفظ بھی حاصل ہے لیکن گلالئی اسماعیل اور اس جیسے دیگر نام نہاد انسانی حقوق کے ترجمان پاکستان اور پاکستان کے اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کے طور پر زہر اگلتے رہتے ہیں ایسا ہی حال کچھ میڈیا پرسنز کا ہے جن کے ساتھ کچھ سیاستدان بھی شامل ہیں ۔ ان کو بھارتی ظلم و جبر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر نہیں آتیں بلکہ ان سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں