55

عمران خان کی فاسٹ اننگز! (ساجد خان)

عمران خان کو اقتدار سنبھالے ابھی ایک سال مکمل نہیں ہوا کہ انہوں نے ایک ساتھ کئی محاذ کھول دیئے ہیں،وہ سیاسی ٹیسٹ اننگز کو ٹی 20 کی طرز پر کھیلتے نظر آ رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کی پکڑ دھکڑ، ججز کے ساتھ محاذ آرائی اور دینی جماعتوں کے ساتھ نوک جھونک جاری ہے، عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار جبکہ معیشت ابھی تک خطرات سے دو چار ہے۔

یہ سب وہی غلطیاں ہیں جو نوازشریف نے اپنی پچیس سالہ سیاسی زندگی میں کیں لیکن عمران خان اتنے فاسٹ کھیل رہے ہیں کہ وہ ساری غلطیاں ایک سالہ اقتدار میں ہی کر رہے ہیں، اب صرف ریاستی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کرنا باقی رہ گئی ہے جو نوازشریف کی آخری بڑی غلطی تھی۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اقتدار ملنے کے بعد سب سے پہلے معیشت کو بہتر کیا جاتا تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہوتا اور پھر تین سال کے بعد اپوزیشن کی طرف رخ کیا جاتا لیکن حکومت عوام کو سہولیات دیئے کی طرف توجہ ہی نہیں دی جا رہی، الٹا عوام کو سونے کا انڈہ دینے والی مرغی سمجھ لیا گیا ہے کہ ستر سال کے قرضے عوام کی جیب سے نکال کر واپس کرنے ہیں، اگر حکمرانوں نے قرضے لئے یا لوٹ مار کی تو اس میں عوام کا کیا قصور کہ جو بھی حکومت آتی ہے وہ عوام کو ہی کڑوی گولی کھلانے کی کوشش کرتی ہے۔

احتساب کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس میں بھی عوامی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اپوزیشن کو دبا دیا جائے تاکہ کوئی آواز اٹھانے والا نا رہے اور پانچ سال مزے کے ساتھ حکومت کی جائے۔

اگر کوئی سمجھتا ہے کہ شریف خاندان اور آصف زرداری کو جیل بھیج کر، ان سے لوٹا ہوا مال واپس لایا جا سکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے کیونکہ ان کے دل میں اگر ایک دھیلا واپس کرنے کا بھی خیال ہوتا تو سلمان شہباز ملک سے نا جاتے، حسن نواز اور حسین نواز یوں برطانیہ نا بیٹھے رہتے، جو اپنی والدہ کی تدفین میں شامل نہیں ہوئے ،والد اور بہن کی جیل میں ملاقات کے لئے نہیں آئے، وہ پیسہ واپس کرنے پاکستان کیوں آئیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر ان رہنماؤں نے ایک پیسے کی کرپشن بھی تسلیم کر لی تو ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو جائے گا لہذا وہ جیل میں موت تو قبول کریں گے لیکن لوٹا ہوا مال واپس نہیں کریں گے، ویسے بھی پاکستانی سیاست میں جو سیاست دان زیادہ جیل میں جاتا ہے وہ اتنا ہی بڑا لیڈر کہلاتا ہے خواہ کسی جرم میں بھی گیا ہو۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا احتساب بھی فی الحال یکطرفہ نظر آ رہا ہے کہ نا ہی پشاور میٹرو کا احتساب کیا جا رہا ہے اور نا ہی علیمہ خان کا اور جو پی ٹی آئی میں ہلکی پھلکی پکڑ دھکڑ جاری ہے، وہ بھی اندرونی اقتدار کی جنگ کا شاخسانہ ہے۔

عمران خان نے پہلا سال تو اس تاثر کے ساتھ گزار دیا کہ شاید عوام نے پی ٹی آئی کو معیشت بہتر کرنے کے لئے نہیں بلکہ صرف نوازشریف اور زرداری کو جیل بھجوانے کے لئے ووٹ دیا تھا۔

حکومت کا پہلا سال اسی رام کہانی میں گزر گیا کہ گزشتہ حکومتوں نے لوٹ مار کی اور ہزاروں ارب روپے کا قرضہ حاصل کیا جبکہ دوسرے سال کے لئے اب ایک کمیشن تشکیل دے دیا گیا ہے کہ وہ قرضہ خرچ کہاں ہوا لیکن اس کمیشن سے عوام اور معیشت کو کیا فائدہ ہو گا، کیا اس کمیشن کی رپورٹ سے وہ پیسہ واپس آ جائے گا؟

ظاہر ہے کہ نہیں، عوام نے پی ٹی آئی کو یہ سب کرنے کے لئے ووٹ نہیں دیا تھا بلکہ عملی طور پر کچھ کر دکھانے کے لئے اقتدار میں لاۓ تھے ورنہ زبانی جمع خرچ تو شریف خاندان بھی اچھا کرتا تھا مگر انہوں نے سوائے اپوزیشن پر تنقید اور عوام پر ٹیکس پر ٹیکس لگانے کے علاوہ کوئی قابل ذکر کام ہی نہیں کیا ہے جبکہ حکومت دس سال میں بیس ہزار ارب روپے کا رونا تو روتی نظر آتی ہے لیکن یہ بتانا پسند نہیں کرتی کہ اس نے خود دس ماہ میں پانچ ہزار ارب روپے قرض کیوں لیا۔

وزیراعظم پاکستان ہر مہینے قوم سے خطاب کر کے عوام کو خوفزدہ کرنے پہنچ جاتے ہیں، ٹیکس دو ورنہ تمھیں مسئلہ ہو جائے گا، اثاثے ڈکلیئر کرو ورنہ پکڑے جاؤ گے، یورپ کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ وہاں کی عوام اتنا ٹیکس دیتی ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہاں عوام کو سہولیات بھی میسر ہیں، وہاں کے تعلیمی اور صحت کے نظام دنیا میں بہترین تصور کئے جاتے ہیں، وہاں انسان خود کو حقیقی معنوں میں آزاد محسوس کرتا ہے، ریاست پہلے وہ زندگی مہیا کرتی اور اس کے بعد عوام کو ٹیکس دینے کا کہتی تو شاید سب حکومت کو یوں منت سماجت کرنے کی ضرورت ہی پیش نا آتی۔

عمران خان کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک ایسے نہیں چلتا اور نا ہی عوام پر بوجھ ڈال کر معیشت بہتر ہوتی ہے، اس کے لئے نظام میں تبدیلی لانا پڑے گی۔

موجودہ حکومت نے سرکاری اداروں میں کرپشن روکنے کے لئے کیا کیا، آج بھی ویسے ہی لوٹ مار جاری ہے اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔

اب پورے پاکستان کی کرپشن کو روکنے کی ذمہ داری نیب نہیں سنبھال سکتی کیونکہ وہ کرپشن ہونے کے بعد حرکت میں آتی ہے، کسی بھی ادارے میں کرپشن کو ہونے سے روکنے کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے جس کی طرف بالکل بھی توجہ نہیں دی جا رہی حالانکہ گزشتہ حکومت میں دھرنے کے دوران عمران خان کئی مرتبہ اس بات کا دعویٰ کر چکے ہیں کہ پاکستان میں روزانہ سینکڑوں ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے، اب اگر ان کا یہ دعویٰ سچا تھا تو اب ان کو چاہئے تھا کہ وہ سب سے پہلے اداروں میں مستقبل میں ہونے والی کرپشن کو روکنے کے لئے اقدامات کرتے تاکہ قوم کے ہزاروں ارب روپے محفوظ کر کے عوام پر بوجھ کم سے کم ڈالا جاتا مگر اس طرف بالکل بھی توجہ نہیں دی جا رہی۔

اب تو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ جو حالات جاری ہیں،اس کے لئے اپوزیشن کے احتجاج کی نوبت ہی نہیں آۓ گی اور عوام خود ہی مہنگائی سے تنگ آ کر سڑکوں پر نکل آئے گی۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں