49

احمد شاہ ابدالی ہمارا فخر (انشال راؤ)

اٹھارہویں صدی عیسوی میں ہندوستان کی عنان حکومت پر مغلوں کی گرفت کمزور پڑی تو نتیجے میں مرہٹوں (برگیوں) نے مسلمانوں پر زمین تنگ کردی، ان کے حملوں کے باعث انسانوں بالخصوص مسلمانوں کی املاک اور عزت آبرو محفوظ نہیں تھی، اس کے ساتھ ساتھ دہلی کے گرد و نواح میں جاٹوں نے زندگی کو اجیرن بناکے رکھدیا تھا، مسلمان شدید مصائب کا شکار تھے قتل و غارت، لوٹ مار، آبرو ریزی عام تھی، مرہٹوں کے ظلم و ستم کے ایسے ایسے واقعات ہیں کہ قارئین کے دل دہل جائیں دیکھنے اور سننے والوں کا کیا حال ہوگا یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے اسی لیے بنگال کے مشہور شاعر گنگا رام نے اس ظلم و ستم کا نوحہ ان الفاظ میں لکھا کہ “مرہٹوں نے دیہاتیوں کو لوٹنا شروع کردیا، بہت سے لوگوں کے انہوں نے ناک، کان اور ہاتھ کاٹ لیے، خوبصورت عورتوں کو رسیوں سے باندھ کر لے گئے، خواتین چیخیں مارتی تھیں، انہوں نے ہر طرف آگ لگادی اور ہر طرف لوٹ مار کرتے پھرے” مرہٹوں کی طاقت اور بڑھی تو انہوں نے مسلمانوں کی مذہبی آزادی بھی صلب کرنا شروع کردی اور اعلان کیا کہ وہ دہلی کی شاہی مسجد کے منبر پر رام کی مورتی رکھیں گے جس سے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی لیکن اس وقت مسلمان سیاسی، مذہبی، معاشی و معاشرتی طور پر انحطاط کا شکار تھے ایسے میں شاہ ولی اللہ میدان عمل میں اترے، آپ نے پہلے ایک مسلمان حاکم نجیب الدولہ کو مرہٹوں کے خلاف اٹھنے کے لیے راضی کیا جو تنہا مرہٹوں کی طاقت کا سامنا کرنے پہ قادر نہیں تھے تو شاہ ولی اللہ نے شاہ افغانستان احمد شاہ ابدالی کو خط لکھا “جس میں مسلمانوں کی زبوں حالی اور مصائب کا ذکر کے ساتھ ساتھ موذی مرہٹوں کے ظلم و جبر سے مسلمانوں کو نجات دلانے کے لیے امداد طلب کی” جواباً احمد شاہ ابدالی مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر بہت رنجیدہ ہوے اور مجاہدانہ عزم کرکے مرہٹوں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کا فیصلہ کرتے ہوے لشکر کی تیاری کا حکم دیا، شروع سے ہی احمد شاہ میں مجاہدانہ صفت کوٹ کوٹ کر بھری تھی یہی وجہ تھی کہ جب افغان ٹکڑوں میں بٹے ہوے تھے تو ان کی سرداری کے لیے احمد شاہ کو منتخب کرنے والی ذات بھی صابر شاہ ولی لاہوری کی تھی، نادر شاہ کے قتل کے بعد احمد شاہ ابدالی نے تمام قبائل کو متحد کرکے پہلی بار افغانوں کو افغان قوم بنایا جس پر مشہور مورخ سر پرسی سائیکس نے لکھا کہ “آج کا افغانستان ماضی میں چھوٹی چھوٹی ریاستوں کا مجموعہ تھا جن پر ظالم سردار حکمران تھے اس کے بعد بیرونی حملہ آوروں نے اس پر قبضہ کیا اور ان کی اولادوں نے حکومت کی، احمد شاہ ابدالی وہ پہلا شخص ہے جس نے افغانوں کو غیروں کی غلامی کرنے سے نجات دلایا اور قوم بنایا جو ملک آج دنیا افغانستان کے نام سے جانتی ہے” اسی لیے افغان احمد شاہ ابدالی کو تعظیماً احمد شاہ بابا کے نام سے یاد کرتے اور پکارتے ہیں، احمد شاہ ابدالی کا کارنامہ محض افغانوں کو ایک قوم بنانے تک محدود نہیں بلکہ ہندوستان میں اسلام کی بحالی و مسلمانوں کے وقار کو استحکام دینے کا بھی ہے، جب مرہٹے و دیگر انتہا پسند ہندوتوا ذہنیت کے حاکم مسلم دشمنی میں اندھے ہوگئے تھے تو شاہ ولی اللہ کی درخواست پر احمد شاہ ابدالی افغانستان سے چل کر ہندوستان پہنچا اور بہت سی لڑائیوں کے بعد جنوری 1761 میں پانی پت کے مقام پر مرہٹوں کے خلاف صف آراء ہوا، اسے تاریخ میں پانی پت کی تیسری جنگ کہا جاتا ہے یہ تاریخ میں اس لیے اہم ہے کہ اس جنگ میں احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں و اس کے اتحادیوں پر ایسی ضرب کاری لگائی کہ ان کی طاقت ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی اور پھر وہ کبھی سنبھل نہ سکے، پانی پت کی جنگ میں احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کو شکست فاش دی جسکے نتیجے میں بقول گرانٹ ڈف “تقریباً دو لاکھ سے زائد مرہٹے و دکنی قتل ہوے اور کثیر مال غنیمت احمد شاہ ابدالی کے ہاتھ لگا” اس کے بعد احمد شاہ فاتحانہ دہلی میں داخل ہوا اور مغل شہنشاہ کو بحال کرکے لوٹ گیا، متعصب ہندوتوا مورخین اس عظیم مجاہد پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ لوٹ مار کی غرض سے ہندوستان پر حملہ آور ہوا، اگر ایسا ہوتا اور احمد شاہ ابدالی کو دولت کی لالچ و حرس ہوتی تو وہ کبھی دہلی کی سلطنت مغلوں کے حوالے نہ کرتا بلکہ اس پر قبضہ کرتا اور روایتی طور پر فاتحین کی طرح لوٹ مار کرتا، حقیقت یہ ہے کہ مورخین لکھتے ہیں کہ عوام مرہٹوں کے ظلم و ستم سے اتنا تنگ تھے کہ جب ابدالی کو فتح حاصل ہوئی اور مرہٹوں کو فرار ہونا پڑا تو ابدالی کی سپاہ کے ساتھ ساتھ عام افراد نے بھی مرہٹوں کو تعاقب کرکے مارا، لوگوں کی مرہٹوں سے نفرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی باہر نکل آئیں اور مرہٹوں کو مارا جبکہ ابدالی نے اپنے سردار ظفر علی خاں کے زریعے یہ اعلان کروایا کہ کوئی سپاہی کسی کے گھر کو آگ نہ لگائے، کسی سے لوٹ مار نہ کرے، کسی سے ذیادتی نہ کرے اور اگر کوئی ایسا کرتا پایا گیا تو اسے سخت سزا دی جائیگی، بغض برائے بغض میں احمد شاہ ابدالی جیسے عظیم مجاہد پر لوٹ مار کا الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہئے کہ تاریخ ابدالی کی سخاوت و رحمدلی سے بھری پڑی ہے، قیصر علی آغا اپنی کتاب میں ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ جب ابدالی نے قندھار فتح کیا تو اس وقت والئی لاہور احمد سعید دو کروڑ نقدی و ہیرے جواہرات کے ساتھ موجود تھا جو احمد شاہ ابدالی کے ہاتھ لگا آپکی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ سارا مال سپاہیوں و عام لوگوں میں تقسیم کردیا، اس کے علاوہ فرئیر جیسا مورخ اپنی کتاب ہسٹری آف افغان میں یہ تسلیم کرنے پہ مجبور ہوگیا کہ “احمد شاہ ابدالی عدل و انصاف کے معاملے میں بہت سخت تھا اور عدل و انصاف، سخاوت و رحمدلی میں افغان تاریخ میں کوئی اس کا ثانی نہیں” کچھ سیکیولر اور ہندوتوا مورخین و مصنفین ابدالی سے اس لیے بھی بغض رکھتے ہیں کہ اس نے اسلام کے وقار کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا جیسا کہ پانی پت کی جنگ میں ایک افغان سردار ابراہیم گاردی گرفتار ہوا جو دولت کے لالچ میں مرہٹوں کے ساتھ تھا، جب اس نے ابدالی سے جاں بخشی طلب کی تو ابدالی نے جواب دیا کہ “جان فروشوں کی جاں بخشی ہوسکتی ہے لیکن ایمان فروشوں کی نہیں” اور اسے اسکے انجام تک پہنچادیا، احمد شاہ سے اس لیے بھی بغض رکھا جاتا ہے کہ 1757 میں جنگ پلاسی میں انگریز چھاگئے لیکن ابدالی کے ہندوستان میں قدم جمنے کے بعد انگریزوں کی بھی کسی مسلمان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہ پڑی حتیٰ کہ مسٹر وینسٹارٹ جیسے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذمہ دار احمد شاہ ابدالی کو میر قاسم کی بنگال میں منصب پر فائز ہونے کی خبر دیتے تھے، آجکل بھارت کی طرف ابدالی پر فلم بندی کی گئی ہے جس میں ہندوتوا مائنڈسیٹ نے تاریخ کو مسخ کرنے اور ابدالی کے قد کو نیچا کرنے کی کوشش کی ہے، جو ہندوتوا عمارتوں اور مختلف جگہوں کے نام مسلمانوں کے نام پر برداشت نہ کرسکیں بھلا ان سے ابدالی کی عظمت کیونکر برداشت ہوسکتی ہے، افغان بھائیوں کے سامنے بھی دو کردار ہیں ایک ابراہیم گاردی جو ہندوتوا کے ساتھ تھا اور ایمان فروشی کی، دوسرا احمد شاہ ابدالی جس نے اسلام کی عظمت کو بحال کیا، اب یہ افغان بھائیوں پر ہے کہ وہ کس کے نقش قدم پہ چلنا پسند کرینگے، کیا احمد شاہ ابدالی کی طرح مسلمانوں کا درد ان کے سینوں میں ہے؟ ابدالی قوم پرست نہیں بلکہ اسلام پرست تھا جو لوگ ان کے نام کو قومپرستی کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ ابدالی کی ذات پہ سب سے بڑا داغ لگاتے ہیں کیونکہ احمد شاہ ابدالی صرف افغانوں کا ہی بابا نہیں بلکہ تمام عالم اسلام کا فخر ہے۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں