112

لاڑکانہ: رتو ڈیرو میں ڈاکٹر کی جانب سے سرنج کے ذریعے ایڈز پھیلانے کا سنسنی خیز انکشافات

رتو ڈیرو (نیوز ڈیسک) لاڑکانہ سے گرفتار سرکاری ڈاکٹر کے بارے میں ایڈز پھیلانے سے متعلق سنسنی خیز انکشافات سامنے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر اور محکمہ صحت کے حکام کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہےکہ سرکاری ڈاکٹر مظفر گھانگرو خود ایڈز کا مریض ہے، ڈاکٹر نے انتقامی طور پر اپنا مرض دوسرے لوگوں میں منتقل کیا۔

ڈی آئی جی لاڑکانہ کا کہنا ہےکہ ڈی سی اور محکمہ صحت کی رپورٹ پر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جے آئی ٹی میں ایس ایس پی لاڑنہ اور قمبر، دو اے ایس پی سمیت 5 افسران شامل ہوں گے، جے آئی ٹی ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ اور محکمہ صحت کی رپورٹ کی جامع تحقیقات کرے گی۔

دوسری جانب سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے مینیجر ڈاکٹر سکندر میمن کےمطابق 15 افراد میں ایڈز کی تصدیق کے بعد رتو ڈیرو میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 39 ہوگئی ہے جن میں 22 بچے بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر سکندر کا کہنا ہےکہ 5 روز کے دوران 1100 افراد کی اسکریننگ کی جاچکی ہے، ایڈز کے پھیلاؤ کی وجہ معلوم کرنے کیلئے ٹیم آئندہ ہفتے رتو ڈیرو آئے گی۔

ڈپٹی کمشنر نعمان صدیق کا کہنا ہے کہ تعلقہ بنگُل ڈیرو اسپتال میں سرکاری ڈاکٹر مظفر گھانگرو کی غلفت کی وجہ سے ایڈز پھیلا، رتوڈیرو تھانے میں ڈاکٹر مظفر کو مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق ڈاکٹر مظفر کے مریضوں میں سب سے زیادہ ایچ آئی وی پازیٹو پایا گیا تھا اور ڈاکٹر خود بھی ایچ آئی وی سے متاثرہ ہے۔

رتو ڈیرو کے سرکاری ڈاکٹر مظفر گھانگرو کو سنگین غفلت اور اپنے کلینک میں استعمال شدہ سرنجیں بچوں کو دوبارہ لگانے کے الزام میں آج عدالت میں پیش کیاگیا جہاں عدالت نے ملزم کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرکے اسے پولیس کے حوالے کردیا۔

دوسری جانب ڈاکٹر مظفر گھانگھرو نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے علم نہیں تھا کہ میں خود ایچ آئی وی سے متاثر ہوں، اگر مجھے پتہ ہوتا تو بچوں کا علاج نہ کرتا، میں ڈاکٹر ہوں مجھ میں ایڈز کی کوئی علامات سامنے نہیں آئیں اگر پہلے پتہ چلتا تو اپنا علاج کرواتا، ہیلتھ کیئر کمیشن اپنے آپ کو بچانے کے لیے مجھ پر جھوٹے کیس بنا رہا ہے۔

واضح رہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے حلقہ انتخاب میں ایڈز کا موذی مرض شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایک ماہ میں 15 بچوں کے سیمپل ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص کے لئے بھیجے گئے ہیں، جن بچوں میں ایڈز کا وائرس مثبت آیا ہے ان کی عمریں 8 ماہ سے 8 سال تک کی ہیں۔

صوبہ سندھ میں ایڈز کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد ضلع لاڑکانہ میں ہے جہاں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد ڈھائی ہزار کے قریب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں